شفقت حسین کی پھانسی پر عمل درآمد تیسری بار ملتوی

Image caption شفقت حسین کو چھ مئی کو پھانسی دی جانی تھی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک بچے کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے مجرم شفقت حسین کی سزا پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

عدالت نے یہ حکم منگل کو شفقت حسین کے وکیل کی طرف سے ان کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے بعد دیا۔

شفقت کی عمر کا تنازع

پھانسی کے معاملے پر سیاست نہ کریں

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج اطہر من اللہ نے اس معاملے کی روزانہ سماعت کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اس درخواست کا فیصلہ نہیں ہو جاتا شفقت کو پھانسی نہ دی جائے۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجرم کی عمر کا تعین ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے نہیں بلکہ جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ صدر مملکت نے بھی شفقت حسین کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی اور اُنھیں چھ مئی کو کراچی میں پھانسی دی جانی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل ڈاکٹر طارق حسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جس وقت اُن کے موکل کے خلاف قتل کے مقدمے میں عدالتی کارروائی شروع کی گئی تو وہ کم عمر تھے اور ان کو سزا دینے سے متعلق یہ اہم معاملہ نظر انداز کر دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس ضمن میں واضح احکامات ہیں کہ کسی بھی مجرم کی عمر کا تعین عدالت کرے گی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ معاملہ نہ تو ٹرائل کورٹ میں اُٹھایا گیا اور نہ ہی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں۔

اُنھوں نے کہا کہ مجرم کی عمر کا معاملہ سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست میں اُٹھایا گیا۔

Image caption شفقت کے اہلِ خانہ

ڈاکٹر طارق حسن کا کہنا تھا کہ سنہ 2000 میں جب جسٹس سسٹم آرڈیننس آیا تھا تو اس کے بعد بہت سے مجرموں نے اس سے فائدہ اٹھایا جنھیں اس آرڈیننس سے پہلے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ شفقت حسین کی عمر کا معاملہ اس سے بھی نہیں اُٹھایا گیا کیونکہ اس مقدمے میں اُنھیں سرکاری وکیل مہیا کیا گیا تھا جنھوں نےاس معاملے کو نظرانداز کیا۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت جان سے کہا کہ مجرم شفقت حسین کی عمر کا تعین کرنے کے بارے میں کس نے احکامات دیے تھے۔

اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس کے احکامات وزارت داخلہ نے دیے تھے اور ان احکامات کی روشنی میں وفاقی تحققیاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے اہلکاروں پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔

عدالت نے کہا کہ عدالتی کمیشن کسی بھی مجرم کی عمر کے تعین کا اختیار رکھتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس در|خواست کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہو گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد میں توہینِ مذہب کے مقدمے میں غیر مسلم لڑکی رمشا مسیح کی عمر کے تعین کے لیے بھی عدالتی حکم پر ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس نے رمشا مسیح کی ہڈیوں کا ٹیسٹ لے کر انھیں نوعمر قرار دیا تھا اور عدالت نے اُن کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ ختم کر دیا تھا۔

اسی بارے میں