سوات کی خاتون موچی کی جدوجہد

Image caption عارفہ کے مطابق ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں، تاہم علاقے کے لوگ انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں

دنیا میں کامیابی اور کامرانی کے لیے صرف خوش قسمت ہونا ہی ضروری نہیں، بلکہ محنت بھی لازمی ہے اور اس کی زندہ مثال سوات کی عارفہ ہے جو دوسروں کے جوتے مرمت کر کے اپنے بہن اور بھائی کا مستقبل سنوارنے کی لیے جدو جہد کررہی ہے۔

15 سالہ عارفہ کا تعلق ضلع سوات کے علاقے قمبر سے ہے۔ وہ پہلے کی طرح سکول جاتی ہے اور نہ ہی کلاس روم میں دیگر ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ بیٹھ کر پڑھتی ہے، بلکہ ان کے طویل دن کا آغاز درخت کے سائے میں زمین پر بیٹھ کر لوگوں کے جوتے مرمت کرنے سے ہوتا ہے تا کہ وہ اتنے پیسے کما سکیں، جس سے بہن بھائی کے تعلیمی اخراجات اور گھر کے دیگر افراد کا پیٹ پال سکیں۔

نویں جماعت میں تعلیم کو خیر باد کہنے والی عارفہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے بچپن سے ڈاکٹر بننے کا بہت شوق تھا لیکن میرا یہ خواب اس وقت چکنا چور ہو گیا جب میرے والد نے ماں کو طلاق دینے کے بعد ہم سب کوگھر سے بے دخل کر دیا۔ اس کے بعد میرے لیے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔‘

ٹوٹے پھوٹے کچے مکان کے صحن میں درخت کے سائے میں بوسیدہ ٹاٹ کے ایک ٹکڑے پر بیٹھ کر جوتے مرمت کرتے ہوئے عارفہ نے بتایا کہ ’میں اس دن کو یاد کرکے بہت افسردہ ہوتی ہوں جب میں بھی صاف ستھری یونیفارم پہن کر اپنی کلاس فیلو کے ساتھ سکول جایا کرتی تھی،گپ شپ کرتی تھی اور قہقہے لگایا کرتی تھی۔‘

Image caption ’ڈاکٹر بننے کا خواب خواب ہی رہا لیکن اب میرا عزم ہے کہ اپنے بہن اور بھائی کو ضرور پڑھاؤں‘

’ڈاکٹر بننے کا خواب خواب ہی رہا لیکن اب میرا عزم ہے کہ اپنے بہن اور بھائی کو ضرور پڑھاؤں کیونکہ تعلیم ہی ایک ایسی طاقت ہے جو ہمیں غربت سے نکال سکتی ہے اور معاشرے میں عزت کا مقام دلا سکتی ہے۔‘

عارفہ کی چھوٹی بہن تیسری جماعت جبکہ بھائی پانچویں جماعت میں پڑھتا ہے جو تھیلیسیمیا کا مریض بھی ہے۔

پشتون معاشرے میں خواتین کے لیے کام کرنا عام نہیں لیکن اپنا مستقبل داؤ پر لگنے کے بعد حلال رزق اور بہن بھائی کے بہتر مستقبل کی متلاشی عارفہ نے جوتے مرمت کرنے کاکام شروع کیا۔ یہ ہنر انھوں نے اپنی ماں سے سیکھا۔ ان کے بقول ان کی ماں نے یہ ہنر ان کے باپ سے سیکھا کیونکہ ان کے والد موچی تھے۔

عارفہ کے مطابق ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں، تاہم علاقے کے لوگ انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے کام کی قدر کرتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ ان میں بہن بھائی کو پڑھانے کے سلسلے میں ایک نیا جذبہ جنم لیتا ہے۔

اسی بارے میں