سوات میں پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما کا قتل

تصویر کے کاپی رائٹ AP

وادی سوات کے علاقے قمبر میں اتوار کی شب پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما اکبر علی ناچار کو نامعلوم نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

سوات کے علاقے میں گذشتہ چھ ماہ کے عرصے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے تین مقامی رہنماؤں کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا جا چکا ہے۔

اکبر علی اس مرتبہ ڈسٹرکٹ کونسل کے انتخاب میں آزاد حیثیت سے حصہ لے رہے تھے۔ اکبر علی ناچار پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ضلعی صدر بھی رہ چکے تھے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے ان پر حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی تھی۔

سوات کے ضلعی پولیس افسر سلیم مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعات ٹارگٹ کلنگ کے ہیں اور پولیس اس بارے میں تفتیش کر رہی ہے ۔

اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے دو اہم رہنماؤں اور سگے بھائیوں کو بھی اسی علاقے میں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔گذشتہ ماہ کی چھ تاریخ کو سکندر حیات کو قمبر کے علاقے میں اس وقت ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ عشا کی نماز کے بعد گھر جا رہے تھے۔

ان کے بھائی فضل حیات کوگذشتہ سال نومبر میں عشا کی نماز کے بعد اسی علاقے قمبر میں فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ فضل حیات سینیئر سیاستدان تھے اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات میں بھی حصہ لے چکے تھے۔

مقامی صحافیوں نے بتایا کہ فضل حیات کو دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنی پارٹی کے ٹکٹ دینے کی پیشکش کی تھی لیکن انھوں نے پیپلز پارٹی سے اپنی وابستگی کی بنیاد پر پیشکش ٹھکرا دی تھی۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ایک ہی علاقے اور ایک ہی وقت پر ہلاکت کے حوالے سے مختلف سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پولیس ان واقعات کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔

اسی طرح چند روز پہلے قبائلی علاقے باجوڑ سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی اخوانزادہ چٹان پر بھی نامعلوم افراد نے اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ بھائی کے ساتھ باجوڑ سے جا رہے تھے۔ اس حملے میں وہ محفوظ رہے تھے۔

اسی طرح چند روز پہلے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے قافلے پر بھی حملہ کیا گیا تھا جب وہ چارسدہ سے پشاور آ رہے تھے۔ اس حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے قائدین پر اتنے حملے ہو رہے ہیں لیکن جماعت کےمرکزی اور صوبائی قائدین خاموش ہیں۔ اس بارے میں مرکزی سطح پر یا صوبائی قیادت نے کوئی بیان تک جاری نہیں کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی سوات کے ضلعی صدر شمشیر علی خان سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے طورپر سب کچھ کر رہے ہیں۔

ان سے جب پوچھا کہ پیپلز پارٹی کے قائدین اس بارے میں خاموش کیوں ہیں تو ان کا کہنا تھا وہ خاموش نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی قیادت سوات آئی تھی اور فاتحہ خانی کی ہے جبکہ پارٹی کے اجلاس بھی منعقد ہو رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں سیاسی رہنماؤں پر حملوں میں شدت آئی تھی جب بقول اے این پی کے رہنماؤں کے ان کے سینکڑوں کارکنوں اور رہنماؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی اور وزرا بھی ان حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ صوبے میں اگرچے تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے لیکن سیاسی رہنماؤں پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔