مسلم لیگ نون کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک انصاف کے امیدوار حامد خان کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ این اے 125 میں دھاندلی کی گئی

پاکستان میں وفاق اور صوبے پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 میں دھاندلی کے حوالے الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کا اعلان بدھ کو وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اور احسن اقبال نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

رواں ہفتے پیر کو انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے الیکشن ٹریبیونل نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 125 میں دھاندلی کے الزامات ثابت ہونے پر انتخابات کو کالعدم قرار دیا تھا اور الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ حلقے میں دو ماہ کے اندر اندر دوبارہ انتخاب کروائے جائیں۔

سنہ 2013 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے اس حلقے سے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے امیدوار خواجہ سعد رفیق کامیاب ہوئے تھے۔ سعد رفیق اس وقت وزرات ریلوے کے وفاقی وزیر ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ سیاسی رفقا اور قانونی ٹیم کی مشاورت سے کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کے حلقے سے منتخب ہونے والے امیدوار خواجہ سعد رفیق ضمنی انتخابات کے ذریعے دوبارہ عوام کے سامنے پیش ہونا چاہتے تھے۔ ’لیکن فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہ کر کے ہم غلط روایت قائم نہیں کرنا چاہتے۔‘

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ قانونی ٹیم نے مشورہ دیا ہے کہ الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کو آئینی اور قانونی بنیاد پر سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ٹریبیونل نے حلقے میں دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم انتظامی بےقاعدگیوں کی وجہ سے دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار حامد خان نے الیکشن ٹرییبونل میں خواجہ سعد رفیق کے خلاف درخواست دائر کی تھی اور اُن پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا۔

انتخابات کے بعد 22 ماہ تک حامد خان کی درخواست الیکشن ٹریبیونل نے کارروائی کرنے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔ قومی اسمبلی اس حلقے میں لاہور کے ڈیفنس، کیولری گراؤنڈ، والٹن غازی روڈ اور نشاط کالونی کے علاقے شامل ہیں۔

اسی بارے میں