انتخابی ٹریبیونلز کی مدتِ کار میں مزید دو ماہ کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چھ ٹریبیونلز کے پاس 30 کے قریب انتخابی عذرداریاں زیرِ سماعت ہیں

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے 2013 کے عام انتخابات کے حوالے سے دائر عذرداریوں کی سماعت کرنے والے چھ ٹریبیونلز کی مدتِ کار میں مزید دو ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

جن چھ ٹریبیونلز کی مدتِ کار میں اضافہ کیا گیا ہے ان میں سے چار فیصل آباد اور لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں جبکہ ایک ایک پشاور اور حیدرآباد میں قائم ہے۔

ان انتخابی ٹریبیونلز کیمدت 30 اپریل کو ختم ہوئی تھی تاہم اب یہ 30 جون 2015 تک کام کریں گے۔

ان ٹریبیونلز کی اصل مدت دسمبر 2014 میں ختم ہوگئی تھی جس کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ انھیں دو ماہ کی توسیع دی گئی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس وقت ان چھ ٹریبیونلز کے پاس 30 کے قریب انتخابی عذرداریاں زیرِ سماعت ہیں جبکہ متعدد عذرداریوں پر فیصلے سنائے جا چکے ہیں۔

تاحال زیرِ سماعت عذرداریوں میں لاہور کے حلقہ این اے 122 سمیت وہ تین حلقے بھی ہیں جن میں پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے ابتدائی طور پر مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

این اے 122 میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کے خلاف پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے عذرداری دائر کی گئی ہے اور وہاں ٹریبیونل نے عام انتخابات کے دوران ڈالے گئے تمام ووٹوں کی تصدیق نادرا سے کروانے کا حکم دیا ہوا ہے۔

حال ہی میں فیصل آباد میں قائم الیکشن ٹریبیونل نے لاہور کے ہی حلقہ این اے 125 سے مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیرِ ریلوے سعد رفیق کے انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے وہاں دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم بھی دیا ہے۔

ٹریبیونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اس حلقے میں انتخابی بےضابطگیاں ہوئیں جس کی وجہ سے وہاں دوبارہ انتخاب کروایا جانا چاہیے۔

مسلم لیگ ن نے ٹریبیونل کے اس فیصلے کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں