’اب صرف فصل تباہ نہیں ہوگی، گرفتاری بھی ہوگی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان میں حکام کے مطابق ملک سے پوست کی کاشت کے مکمل خاتمے کے لیے قانون میں تبدیلی کی گئی ہے۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں پوست کاشت کرنے والوں کی محض فصلیں ہی تباہ نہیں کی جائیں گی بلکہ انھیں گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔

بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کے سیکرٹری محمد غالب علی بندیشہ نے بتایا کہ قانونی کارروائی کا فیصلہ دیگر کارشت کاروں کو اس مہلک کاشت سے روکنے کے لیے ہی۔

’ہم امید کرتے ہیں کہ جو تھوڑی بہت کاشت ہو بھی رہی ہے اسے بھی قانونی اور معاشی متبادل مہیا کر کے مکمل طور پر روکا جائے گا۔‘

اس سوال پر کہ آیا پاکستان میں شدت پسند اور مزاحمت کار تو پوست کی کاشت سے افغانستان میں طالبان کی طرز پر معاشی فائدہ تو حاصل نہیں کر رہے، غالب بندیشہ کا کہنا تھا کہ اب تک کی تحقیقات سے اس قسم کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

’ہم نے جتنے بھی واقعات کی تحقیقات کی ہیں ان میں کسی میں بھی ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔‘

پاکستان دنیا بھر میں قبضے میں لی جانے والی منشیات کی مقدار کے تناسب سے پہلے نمبر پر ہے۔

تازہ ترین سرکاری اعداوشمار کے مطابق سنہ 2015 میں ساڑھے تین ہزار کلوگرام ہیروئن، 11 ہزار کلوگرام افیون اور 59 ہزار کلوگرام حشیش قبضے میں لی گئی ہے۔

پاکستان دو ہزار تین سے لے کر دو ہزار چھ تک ہیروین کو ضبط کرنے کے معاملے میں بھی دنیا میں پہلے نمبر میں رہا لیکن دو ہزار دس میں اسے چوتھا نمبر ملا۔

جہاں تک پوست کی کاشت کی بات ہے تو اس میں بھی کمی آئی ہے اور پچھلے پانچ برسوں سے عالمی معیار کے مطابق یہاں اس کی کاشت نہ ہونے کے برابر ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ دنوں بتایا تھا کہ اس سال سندھ میں قمبر شہداد کوٹ (قمبر اور وارا تحصیل)، بلوچستان میں لورالائی کی دُکی اور میختر تحصیل، قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان، قبائلی علاقوں میں مہمند، باجوڑ اور خیبر ایجنسی میں پوست کی غیر قانونی کاشت ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سیکرٹری نارکوٹکس کا کہنا تھا کہ اب پوست کی کاشت محض دور افتادہ علاقوں تک محدود رہ گئی ہے

سیکرٹری نارکوٹکس کا کہنا تھا کہ اب پوست کی کاشت محض دور افتادہ علاقوں تک محدود رہ گئی ہے۔’جب سیارے کے ذریعے لی گئی تصاویر کا جائزہ لیا جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ کسی علاقے میں کاشت کی گئی ہے تو اینٹی نارکوٹکس فورس ایکشن کرتے ہوئے اسے تلف کر دیتی ہے۔‘

عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ایسے ملک کو جہاں ایک ہزار ہیکٹرز سے کم رقبے پر پوست کی کاشت ہو، اس سے آزاد قرار دیا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے غالب علی بندیشہ کا کہنا تھا کہ پاکستان گزشتہ پانچ برسوں سے اس اعتبار سے پوست سے پاک ملک ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں بھی ان دور دراز علاقوں میں پوست کے کاشت کاروں کو کاشت کے متبادل ذریعے فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس کا اب تک کوئی خاص فائدہ سامنے نہیں آیا ہے۔

’پوست خریدنے کے لیے سمگلر ان کے گھر تک پہنچ جاتے ہیں لیکن اگر وہ کوئی سبزی کاشت کریں تو اسے منڈی تک لے جانا ہی ان کے لیے ممکن نہیں۔‘

اسی بارے میں