صولت مرزا کی پھانسی رکوانے کے لیے اہلیہ کی درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption انسداد دہشت گردی کی عدالت صولت مرزا کو 12 مئی کو پھانسی دینے کے لیے بلیٹ وارنٹ جاری کر چکی ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کی ہائی کورٹ نے متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کارکن صولت مرزا کی بیوی کی درخواست پر کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے مقتول ایم ڈی شاہد حامد اور ان کے گارڈ کے مقدمے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے یہ حکم صولت مرزا کی بیوی نگہت مرزا کی درخواست پر جاری کیا۔

نگہت مرزا نے اپنی درخواست میں سیکریٹری داخلہ، آئی جی جیلز، سینٹرل جیل کراچی اور مچھ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو فریق بنایا ہے۔

نگہت مرزا نے اس درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے شوہر صولت مرزا کے حالیہ بیان کی روشنی میں شاہد حامد قتل کیس کی دوبارہ تحقیقات کی جا رہی ہے، اس لیے جب تک یہ تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روکا جائے۔

صولت مرزا کی بیوی کا موقف ہے کہ اگر سزا پر عمل درآمد کیا گیا تو انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے شوہر نے شاہد حامد کے قتل میں ملوث مزید چھ ملزمان کی نشاندہی کی ہے اور اگر ان کو شامل تفتیش کیا جائے تو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان تک رسائی ہو سکتی ہے۔

نگہت مرزا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: ’صولت مرزا جیسے لوگ مہرے ہیں جو دوسروں کے کہنے پر جرائم کرتے ہیں۔‘

انھوں نے چیف جسٹس اور وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کی کہ پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روکا جائے۔

خیال رہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت صولت مرزا کو 12 مئی کو پھانسی دینے کے لیے بلیک وارنٹ جاری کر چکی ہے جس کے بعد ایک بار پھر خاندان کی ویڈیو لنک کے ذریعے آخری ملاقات کرائی جا چکی ہے۔

صولت مرزا نے پھانسی پر عمل درآمد سے قبل ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سمیت دیگر رہنماؤں پر شاہد حامد کے قتل کیس میں ملوث ہونے سمیت سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد ان کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔

وفاقی حکومت کے حکم پر صوبائی محکمہ داخلہ نے صولت مرزا کے بیان کی روشنی میں ایک مشترکہ تفتیشی ٹیم تشکیل دینے کا حکم جاری کیا تھا۔

اس ٹیم نے کچھ عرصہ قبل مچھ جیل میں صولت مرزا کا بیان قلم بند کیا تھا۔

اسی بارے میں