فورتھ شیڈول میں شامل 2000 افراد روپوش: رپورٹ

Image caption ’چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں جو افراد فورتھ شیڈول میں ہیں اُن کی نقل و حرکت کو اس طرح مانیٹر نہیں کیا گیا جس طرح کیا جانا چاہیے تھا‘

سویلین خفیہ اداروں نے وزارت داخلہ کو رپورٹ دی ہے کہ ملک بھر سے 2000 کے قریب ایسے افراد روپوش ہوگئے ہیں جنھیں انسداد دہشت گردی کے شیڈول فور کے تحت رکھا گیا ہے اور جس کے تحت وہ اپنی نقل و حرکت کے بارے میں مقامی پولیس کو آگاہ کرنے کے پابند تھے۔

پورے ملک میں ایسے افراد کی تعداد 8000 کے قریب ہے جنھیں انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب سے ہے جن کی تعداد 3500 ہے جبکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کی تعداد 1500 سے زائد ہے۔

چند روز قبل وزارت داخلہ کی طرف سے ان افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے جن کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کی نقل و حرکت سے متعلق مقامی پولیس کی طرف سے مبینہ طور پر سست روی کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے بھی یہ افراد روپوش ہوئے ہیں۔

اہلکار کے مطابق چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں جو افراد فورتھ شیڈول میں ہیں اُن کی نقل و حرکت کو اس طرح مانیٹر نہیں کیا گیا جس طرح کیا جانا چاہیے تھا۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ان علاقوں میں مذکورہ افراد نے نہ تو کسی دوسرے شہر جانے سے متعلق مقامی پولیس کو آگاہ کیا اور نہ ہی پولیس اہلکاروں نے ان افراد کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔

اہلکار کے مطابق اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو افراد روپوش ہوئے ہیں ان میں سے زیادہ کا تعلق سندھ اور پنجاب سے ہے جبکہ گلگت بلتستان سے بھی 200 سے زائد ایسے افراد روپوش ہیں جنھیں فورتھ شیڈول میں رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل پنجاب حکومت نے ایسے 600 افراد کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے پولیس کے ادارے سپیشل برانچ اور انسداد دہشت گردی کے محکمے کے اہلکاروں پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی تھی جو اطلاعات کے مطابق روپوش ہوگئے تھے اور ان افراد کی نقل و حرکت کی مانیٹرنگ خصوصی چِپ کے ذریعے کی جانی تھی۔

اہلکار کے مطابق خفیہ اداروں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ ایسے افراد میں سے متعدد افراد بیرون ممالک میں بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل نہیں تھے۔

اہلکار کے مطابق فورتھ شیڈول میں رکھے گیے افراد بلا روک ٹوک دوسرے ملکوں کاسفر کرتے تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان افراد کے بیرون ممالک دوروں کے بارے میں معلومات ملتی تھیں کہ وہ کن مقاصد کے لیے بیرون ملک جا رہے ہیں۔

اہلکار کے مطابق خفیہ اداروں نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ وہ بیرون ممالک اپنی تنظیم یا جماعت کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے جا رہے ہوں کیونکہ فورتھ شیڈول میں رکھے گئے افراد کی اکثریت کا تعلق مختلف مذہبی جماعتوں سے ہے۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں کی ان معلومات کے پیش نظر تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے افراد کے بارے میں جلد از جلد سراغ لگا کر اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور وزارت داخلہ کو اس بارے میں پیش رفت سےآگاہ بھی کیا جائے۔

اسی بارے میں