’حادثہ تکنیکی وجوہات کے باعث، بلیک باکس سے معلومات ملیں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئی ایس پی آر کے سربراہ کے مطابق زخمی ہونے والوں میں پولینڈ اور ہالینڈ کے سفیر بھی شامل ہیں

پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ شمالی علاقے گلگت بلتستان میں پاکستانی فوج کا ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا اور اس میں کسی قسم کی دہشت گردی ملوث نہیں ہے۔

خیال رہے کہ جمعے کی صبح پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے میں کم ازکم سات ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ہلاک شدگان میں دو پائلٹوں اور عملے کے ایک اہلکار کے علاوہ ناروے اور فلپائن کے سفیر اور ملائیشیا اور انڈونیشیا کے سفیروں کی بیگمات شامل ہیں۔

سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس حاصل کر لیا گیا ہے اور حادثے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔

سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر میں ہالینڈ، لبنان، ناروے، رومانیہ، جنوبی افریقہ، فلپائن، پولینڈ، سویڈن اور انڈونیشیا کے سفیر سوار تھے۔

زخمیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا کے سفیر کو 75 فیصد جلے ہیں اور ان کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ پولینڈ کے سفیر کو سر پر چوٹیں آئیں، ہالینڈ کے سفیر کی ٹانگ زخمی ہوئی اور ملائیشیا کے سفیر کا کندھا اور چہرہ زخمی ہوئے ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایئر چیف مارشل سہیل اعوان نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔

سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بتایا کہ حادثے کے زخمیوں کو گلگت میں ابتدائی طبی امداد پہنچائی جا رہی ہے اور میتوں کو اسلام آباد منتقل کرنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ انھیں ان کے ملکوں میں روانہ کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو جلد از جلد ای ایم ایچ گلگت سے اسلام آباد لایا جائے گا۔ اس کے لیے الشفا انٹرنیشنل، پمز اور برن سینٹر کھاریاں میں انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جہاں انھیں مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

’دہشت گردی، سافٹ امیج‘

اس قبل سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی سیکریٹری خارجہ نے دہشت گردی کے ملوث ہونے کو مسترد کیا تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کہیں اس سے پاکستان کا سافٹ امیج متاثر تو نہیں ہوا تو سیکریٹری خارجہ نے اس امکان کو رد کیا اور کہا کہ ’حادثہ تو کہیں بھی ہو سکتا ہے اس میں ہماری نیت صاف تھی۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے کئی پروگرام ترتیب دیے جا چکے ہیں۔

سیکرٹری خارجہ کے مطابق خراب موسم کے باعث نلتر میں موجود دیگر سفیروں کو اسلام آباد منتقل نہیں کیا جا سکا۔

وزیراعظم نواز شریف نے اس حادثے پر ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق یہ حادثہ جمعے کی صبح نلتر کے علاقے میں پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو ہیلی کاپٹروں بحفاظت زمین پر اتر گئے تھے جب کہ تیسرا تکنیکی خرابی کے باعث لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔

ٹوئٹر پر انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ روسی ساخت کے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر پر 11 غیر ملکی اور چھ پاکستانی سوار تھے۔

اطلاعات کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر اترنے کے عمل کے دوران نلتر کے آرمی پبلک سکول کی عمارت سے ٹکرا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption زخمیوں کو علاج کے لیے گلگت کے سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے

تفریحی دورہ

پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جمعے کو 30 سے زیادہ غیر ملکی سفارت خانوں کے سربراہوں اور ان کے اہل خانہ کو بعض پاکستانی حکام سمیت تین دن کے دورے پر سی ون 30 طیارے سے گلگت لے جایا گیا تھا جہاں سے انھیں چار ہیلی کاپٹروں میں نلتر لے جایا جا رہا تھا کہ ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تین دن کا تفریحی دورہ تھا اور اس طرح کے دورے وزارت خارجہ ڈپلومیٹک کور کی مشاورت سے باقاعدگی سے کراتی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق حادثے کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے وزارت خارجہ میں کرائسس منجمنٹ سیل بنا دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں