’ہم تو یہاں جنت دیکھنے کے لیے آئے تھے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت کے علاقے نلتر میں جمعہ کو سفیروں سے بھرے ایک فوجی ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے پر ایک جانب ملک میں یوم سوگ منایا جا رہا ہے تو دوسری جانب یہ حادثہ ہوا کیسے اس کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ عینی شاہدین اور ہیلی کاپٹر میں موجود افراد کے بیانات سے بھی بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ یہ حادثہ ہی تھا۔ تمام سیاسی و فوجی رہنما پہلے ہی ثبوتاژ کو مسترد کر چکے ہیں۔

پاکستان فوج کے روسی ساخت کے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر نے جمعے کی صبح گلگت کے ہوائی اڈے سے وادی نلتر کے لیے ایک معمول کی پرواز کی۔ لیکن عینی شاہدین کے مطابق لینڈنگ کے آخری لمحات میں زمین کے انتہائی قریب آکر یہ یکدم گول گول گھومنے لگا اور بےقابو ہو کر قریبی سکول کی عمارت پر جا گرا۔

حادثے میں زخمی ہونے والے ایک ملائیشیا کے ہائی کمشنر ڈاکٹر حسرالثانی غیرملکی سفارت کار نے آخری لمحات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا: ’ہم تو یہاں جنت دیکھنے کے لیے آئے تھے۔ گلگت سے ہیلی کاپٹر کی نلتر کی پرواز ٹھیک رہی لیکن لینڈنگ کے وقت وہ اچانک گول گول گھومنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ پائلٹ ہلاک ہوچکا تھا۔ آگ بہت تیز ہوچکی تھی۔ ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔ میں اپنے آپ کو گھسیٹ کر پائلٹ کی کھڑکی تک پہنچا اور اس کا شیشہ توڑ کر باہر نکل آیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption ’گلگت سے ہیلی کاپٹر کی نلتر کی پرواز ٹھیک رہی لیکن لینڈنگ کے وقت وہ اچانک گول گول گھومنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ پائلٹ ہلاک ہوچکا تھا‘

پھر آگ، دھواں اور تباہی کہ مناظر دیکھے جاسکتے تھے۔ بی بی سی کو ملنے والی ایک خصوصی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس مقام پر کسی حملے کے آثار بظاہر دکھائی نہیں دے رہے۔ سکیورٹی اور طبی اہلکار زخمیوں کی مدد میں مکمل تندہی کے ساتھ مصروف ہیں۔ اگر اینٹی ایئر کرافٹ گن یا میزائل داغا گیا ہوتا جیسے کہ پاکستان طالبان دعویٰ کر رہے ہیں تو وہاں موجود فوجی یا دیگر سرکاری اہلکار پوزیشنیں سنبھالنے دکھائی دیتے۔

لیکن کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی کے دعوے کے بعد ایک دوسری ای میل میں بھی یہی اصرار تھا کہ ہیلی کاپٹر انہوں نے ہی گرایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کے وہاں محفوظ بچ نکلنے کے لیے اسے کوئی کیمرہ نہیں دیا گیا ورنہ وہ اس کی ویڈیو جاری کر دیتے۔

ہاں انہوں نے تاہم اپنی تحویل میں سام سیون کہلوانے والے ایک ہتھیار کی ویڈیو جاری ضرور کی ہے۔ اگر یہ ہیلی کاپٹر اسی میزائل سے گرایا گیا ہوتا تو اس شخص کی باآسانی شناخت ہوسکتی تھی۔ کیمرا تو اس کے مقابلے میں کافی چھوٹی چیز تھی۔

گول گول گھومنے کی تصدیق نیدر لینڈ کے سفیر ماسل ڈی ونک نے بھی ایک بیان میں کی ہے۔ ’مجھے جو یاد ہے کہ ہم سپن میں پھنس گئے تھے۔ میں نے اپنے آپ کو تھوڑا بہت جھٹکے کے لیے تیار کیا۔ پھر جب میں نے آنکھیں کھولیں تو میں دھواں اور دھماکے دیکھ سکتا تھا۔ میں خوش قسمت تھا کہ محفوظ رہا۔ میں اس علاقے میں دس سال پہلے آیا تھا اور اب اسے دوبارہ دیکھنا چاہتا تھا۔ ہمارے دل دکھی ہیں۔‘

حادثے کی باضابطہ تحقیقات عوام کے سامنے لانے سے صورتحال مکمل طور پر واضح ہو جائے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کوئی عام حادثہ نہیں تھا اور متاثرہ ممالک کی حکومتیں بھی ان تحقیقات کی ضرور منتظر ہوں گی۔

دلکش وادی نلتر میں یہ اس چیئر لفٹ کا منصوبہ تھا جس کے افتتاح کے لیے اعلیٰ شخصیات وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں یہاں آئی تھیں۔ کوشش تو پاکستان کے اس تقریب سے ملک کے سافٹ امیج کی عکاسی کرنا تھا لیکن قدرت کو شاید یہ ابھی منظور نہ تھا۔

اسی بارے میں