آئی جی سندھ کا ذوالفقار مرزا پر نجی آرمی بنانے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ Tribune
Image caption ذولفقار مرزا کے خلاف دہشت گردی

پاکستان کے صوبہ سندھ میں پولیس کے سربراہ غلام حیدر جمالی نے سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پر نجی آرمی بنانے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا کہ ان کے پاس ممنوعہ بور سے لیس کئی سو مسلح لوگ موجود ہیں۔

شوہر کی حمایت کے لیے فہمیدہ مرز بھی میدان میں

ڈبل اے کے ساتھ جھگڑا ہے

سندھ ہائی کورٹ میں پیر کو جسٹس منیب الرحمان کی سربراہی میں ڈویژن بینچ کے روبرو تحریری جواب میں آئی جی سندھ نے بتایا ہے کہ درخواست گذار ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ساتھ کئی سو لوگ موجود ہیں۔

انھوں نے اخبارات میں چھپنے والی تصاویر کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ ذوالفقار مرزا کے حامیوں میں اکثر جرائم پیشہ عناصر بھی ہیں اور اخبارات کی تصاویر میں کچھ خواتین بھی اسلحے کے ساتھ نظر آتی ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے بدین کے ماڈل تھانے پر تاجر اور پپیلز پارٹی کے رہنما امتیاز میمن کی فریاد پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ذوالفقار مرزا سمیت 20 افراد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

آئی جی سندھ کا موقف تھا کہ ’یہ صورتحال کسی نجی آرمی کا منظر پیش کر رہی ہے، جس پر دستور پاکستان کی شق 256 کے تحت پابندی ہے اور ساتھ میں شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا بھی سبب بن رہی ہے۔‘

آئی جی نے عدالت کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے اپنی اہلیہ سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا اور بیٹے حسنین مرزا کے نام پر کئی درجن اسلحے کے لائسنس حاصل کیے تھے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ نجی آرمی بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

سکیورٹی کی عدم دستیابی

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے وکیل اشرف سموں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل کو سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی، اس لیے ان کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے۔

آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے درخواست گذار کے موقف کو مسترد کیا اور بتایا کہ عدالت کے حکم پر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور سابق سپیکر فہمیدہ مرزا کو بدین میں چار چار جبکہ کراچی میں پانچ پولیس اہلکار فراہم کیے گئے تھے، لیکن ایس ایس پی بدین نے آگاہ کیا ہے کہ آٹھوں پولیس اہلکار واپس کردیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے آئی جی سندھ نے جواب دیا ہے کہ سابق وزرا سرکاری سکیورٹی کے حق دار نہیں ہیں، فریال تالپور جو رکن قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی شعبے خواتین کی صدر ہیں کی زندگی کو کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے خطرہ ہے اس لیے انہیں سرکاری سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق صوبائی وزرا پیر مظہرالحق، ڈاکٹر صغیر احمد، وسیم اختر اور عبدالرؤف صدیقی کو بھی خطرات لاحق ہیں اسی بنیاد پر انہیں سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے اپنے تحریری جواب میں یہ بھی بتایا ہے کہ انور مجید ایک نامور تاجر اور کروشیا کے اعزازی سفیر ہیں، اسپیشل برانچ پولیس کی رپورٹ کے مطابق انہیں تاوان کے لیے اغوا کیا جاسکتا ہے جس سے تاجر برداری پر منفی اثر پڑیگا اسی لیے انہیں سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

عدالت نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے وکیل کو 20 مئی تک جواب دائر کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد سماعت ملتوی کردی گئی جبکہ رکن قومی اسمبلی اور سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کے خلاف بیان بازی پر حکم امتناعی برقرار رکھا گیا۔

واضح رہے کہ بدین میں پولیس نے مرزا فارم کا محاصرہ ختم کردیا تھا، جس کے بعد انہوں نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں سے تین مقدمات میں ضمانت حاصل کرلی ہے۔

یہ مقدمات بدین میں ان کے احتجاج کے دوران زبردستی دکان بند کرانے اور پولیس تھانے میں ڈی ایس پی کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد دائر کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں