ریپ کے مقدمات میں صرف چھ فیصد کو سزائیں

Image caption گذشتہ بیس ماہ میں 3645 ایسے جنسی زیادتی کے مقدمات ہیں جن میں باضابطہ چالان پیش ہوئے لیکن صرف قریباً چھ فیصد میں ملزمان کو سزا دی گئی ہے۔

پاکستان کی سینٹ کے مطابق گزشتہ سال جولائی سے لے کر رواں سال فروری تک صرف چھ فیصد مقدمات میں ملزمان کو سزائیں دی گئی ہیں۔

وکلاء اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ پولیس کی نااہلی ہے۔

پشاور کے ایک محلے میں سولہ سالہ بچی کے رشتہ دار اسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈ کا لالچ دے کر ساتھ لے گئے۔ ایک ہفتہ تک لاپتہ رہنے کے بعد، اس بچی کی لاش نہر میں ملی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سے معلوم ہوا کہ اسے اجتماعی ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا۔

استغاثہ کے وکیل جلال الدین کا کہنا ہےکہ یہ کیس پشاور ہائی کورٹ تک گیا لیکن پولیس کی کوتاہی کی وجہ سے کسی ملزم کو سزا نہ ملی۔

’طبی رپورٹ کے مطابق اس کا گینگ ریپ ہوا تھا۔ لیکن پولیس نے کہا تھا کہ یہ اتنا پرانا کیس ہے تو اس میں مزید کیا کیا جا سکتا ہے؟‘

گذشتہ ہفتے سینٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ گذشتہ بیس ماہ میں 3645 ایسے جنسی زیادتی کے مقدمات ہیں جن میں باضابطہ چالان پیش ہوئے لیکن صرف تقریباً چھ فیصد میں ملزمان کو سزا دی گئی ہے۔

قومی کمیشن برائے خواتین کی سربراہ خاور ممتاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو بہت سنجیدگی سے نمٹنا چاہیے کیونکہ ’قانون بھی موجود ہیں، ریپ کے کیسز زیادہ رپورٹ بھی ہو رہے ہیں لیکن مقدمات میں سزائیں نہیں ہو رہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ رپورٹ درج کروانے کا عمل کامیاب کارروائی میں پہلی رکاوٹ ہے۔ تاہم، پولیس کی کمزور تفتیش سب سے بڑی وجہ ہے کہ مقدمہ آگے نہیں بڑھتا۔

’تحقیقات کے دوران کیس کو کمزور کیا جا سکتا کہ جب تک عدالت تک پہنچتا ہے تو ٹھوس ثبوت نہیں ہوتےاور جہاں پر گواہ ہوتے ہیں انہیں ڈرایا جاتا ہے یا خرید لیا جاتا ہے۔‘

پشاور ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ جلال الدین کا خیال ہے کہ پولیس کی نامکمل تحقیقات کی وجہ سے استغاثہ کو عدالت میں جرم ثابت کرنے میں مشکل ہو جاتی ہے۔

’پچاس فیصد کیس تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اور جو عدالت تک پہنچتے ہیں، کمزور تفتیش کی وجہ سے ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سینٹ کے اعدادوشمار کے مطابق، شدت پسندی سے بری طرح متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 215 ریپ کے مقدمات درج کئے گئے لیکن صرف دو افراد کو سزا سنائی گئی

سینٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، شدت پسندی سے بری طرح متاثر صوبہ خیبر پختونخوا میں 215 ریپ کے مقدمات درج کیے گئے اور صرف دو افراد کو سزا سنائی گئی۔ صوبہ میں سب سے زیادہ کیس ضلع سوات میں سامنے آئے۔

جلال الدین نے سوات میں بھی کیسس کیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ شدت پسندی ہے۔’شدت پسندی اور اس کے بعد آپریشن کی وجہ سے کئی خواتین کے بھائی یا باپ نہیں رہے۔ اور ایسے سماج میں جہاں مردوں کا راج ہے، وہاں مرد ان خواتین کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ اور پھر ایسی غیر مصدقہ رپورٹس ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی ریپ کے کسس میں ملوث تھے۔‘

جلال الدین کا کہنا ہے کہ پولیس کو چاہیے کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔ مثال کے طور پر اگر پولیس چاہے تو ڈ این اے ٹیسٹ کروا سکتی ہے لیکن وہ اپنی جان چھڑاتے ہیں۔ دوسری جانب، خاور ممتاز کہتی ہیں کہ لاہور اور کراچی میں ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کی تجربہ گاہیں موجود تو ہیں لیکن ضلعی سطح پر ڈی این اے ٹیسٹ کے آلات، جو مہنگے نہیں ہوتے، کو رکھا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر تھانے میں ایک یا دو خواتین پولیس اہلکاروں کی موجودگی سے بھی فرق پڑتا ہے کیونکہ پولیس عملے میں سے صرف ایک فیصد خواتین بھرتی کی جاتی ہیں۔ تاہم، پولیس کو، چاہے مرد ہو یا عورت، تربیت دینے سے سب سے زیادہ فرق پڑے گا۔

’کچھ حد تک کوشش ہو رہی ہے۔ سندھ اور پنجاب پولیس نے اپنے تربیتی مراکز میں متعارف کیا ہے لیکن ایسی تربیت عام نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ قومی کمیشن برائے خواتین ریپ کے مقدمات پر سروے کی تیاریوں میں ہے جبکہ ان مقدمات کی پیش رفت پر پنجاب میں کمپیوٹر کے ذریعے نظر رکھنے کا نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ تاہم، جب تک پولیس کو تربیت نہیں دی جائے گی، سزاؤں کی شرح بہتر نہیں ہو گی۔

اسی بارے میں