صولت مرزا کو مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption صولت مرزا کی اہلیہ نے کہا تھا کہ ’صولت مرزا جیسے لوگ مہرے ہیں جو دوسروں کے کہنے پر جرائم کرتے ہیں‘

ایم کیو ایم کے سابق کارکن صولت مرزا کو منگل کو صبح ساڑھے چار بجے بلوچستان کی مچھ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ انھیں سنہ 1997 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کے قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

پھانسی کے بعد ان کی میت کو ایدھی ہوم کوئٹہ پہنچا دیا گیا جہاں سے اسے فلائٹ کے ذریعے تدفین کے لیے کراچی منتقل کیا جائے گا۔

پھانسی رکوانے کی درخواست مسترد

مچھ جیل میں صولت مرزا سے تفتیش

اس سے پہلے صولت مرزا کی پھانسی دو بار ملتوی کی جا چکی تھی، تاہم اس ماہ کے اوائل میں ان کے تیسری بار ڈیتھ وارنٹ جاری ہوئے تھے، جن پر 12 مئی کو علی الصبح عمل درآمد کر دیا گیا۔

آخری ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube

گزشتہ روز ان کے رشتہ داروں نے مچھ جیل میں ان سے آخری ملاقات کی تھی۔ ملاقات کرنے والے رشتہ داروں کی تعداد 15سے زائد تھی جن میں ان کے بھائی ، بہنیں اور دیگر رشتہ دار شامل تھے۔

جیل انتطامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ صولت مرزا نے جیل انتظامیہ کو کوئی تحریری وصیت نامہ نہیں لکھ کر دیا تاہم انہوں نے آخری دنوں میں جو دو تین خطوط تحریر کیے تھے وہ ان کے رشتہ داروں کے حوالے کیے گئے ہیں۔

انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ وہ عمومی طور پر جیل میں خطوط لکھا کرتے تھے۔ اہلکار نے کہا کہ پھانسی سے قبل بھی انہوں نے کوئی خاص بات نہیں کی بلکہ جیل کے اہلکاروں سے معذرت کی ۔ انہوں نے کہا کہ صولت مرزا نے پھانسی سے قبل ان تین چار قیدیوں سے بھی آخری ملاقات کی تھی جن کو ان کے ساتھ گزشتہ سال کے اوائل میں کراچی سے مچھ جیل منتقل کیا گیا تھا۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق صولت مرزا کی جانب سے یہ آخری خواہش ظاہر کی گئی تھی کہ مقتولین کے خاندانوں سے معافی مانگنے کے لیے پھانسی کی سزا کو ایک ہفتے کے لیے مؤخر کیا جائے۔ جیل انتظامیہ کے اہلکار نے اس آخری خواہش کی تصدیق نہیں کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ پھانسی کی سزا کو مؤخر کرانے کے لیے صولت مرزا کے خاندان کی جانب سے کوششیں جاری تھیں۔

تین مرتبہ ڈیتھ وارنٹ

خیال رہے کہ صولت مرزا نے رواں برس 18 مارچ کو اپنی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد سے چندگھنٹے قبلنشر کیے گئے ویڈیو بیان میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سمیت جماعت کی اہم قیادت پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

یہ انٹرویو سامنے آنے کے بعد ان کیسزائے موت پر عمل درآمد 30 اپریل تک کے لیے روک دیا گیا تھا اور وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو صولت مرزا کے بیان کی روشنی میں جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔

اس کے بعد گذشتہ ہفتے صولت مرزا کی اہلیہ نگہت مرزا نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائرکی تھی کہ ان کے شوہر کے حالیہ بیان کی روشنی میں شاہد حامد قتل کیس کی دوبارہ تحقیقات کی جا رہی ہیں، اس لیے جب تک یہ تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روکا جائے۔

صولت مرزا کو 1997 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کو ان کے ڈرائیور اور محافظ سمیت قتل کرنے کے جرم میں 1999 میں پھانسی کی سزاسنائی گئی تھی اور کچھ عرصہ قبل سکیورٹی وجوہات کی بنیاد انھیں مچھ جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔

صولت مرزا نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین پر کے ای ایس سی کے سابق سربراہ شاہد حامد کے قتل کا حکم دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’الطاف حسین جو بابر غوری کے ذریعے ہدایات دیتے تھے، ایک دن بابر غوری کےگھر پر بلا کر الطاف حسین نے کہا کے ای ایس سی کے ایم ڈی کو مارنا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایم کیو ایم گورنر سندھ عشرت العباد کے ذریعے اپنے حراست میں لیے گئے کارکنوں کو تحفظ دیتی ہے۔ ان کے بقول ’ ایم کیو ایم کے کہنے پر پیپلز پارٹی کی حکومت میں انھیں جیل میں بھی سہولیات دی گئیں۔‘

اسی بارے میں