’کراچی میں قیام امن کے لیے خطرہ مول لیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption بلوچستان کے مچھ جیل میں صولت مرزا کے ساتھ ان کے خاندان نے پیر کو آخری ملاقات کی ہے

متحدہ قومی موومنٹ کے منحرف کارکن صولت مرزا کی سزائے موت کا فیصلہ موخر کرانے کے لیے ان کی اہلیہ نگہت مرزا نے مقتول شاہد حامد کے خاندان سے صلح کے لیے رابطہ کیا ہے لیکن انھیں تاحال کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

بلوچستان کے مچھ جیل میں صولت مرزا کے ساتھ ان کے خاندان نے پیر کو آخری ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد صولت مرزا کی اہلیہ نگہت مرزا نے ٹیلیفون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انسانی حقوق کے کارکن انصار برنی کے ذریعے شاہد حامد کے خاندان سے رابطہ کیا گیا ہے۔

نگت مرزا نے بتایا کہ انھوں نے صدر پاکستان کو بھی رحم کی اپیل بھیجی ہے، جس میں ان کا موقف ہے کہ وہ شاہد حامد کے خاندان سے رابطہ نہیں کر پائی ہیں، انھیں مہلت فراہم کی جائے۔

’شروع میں ہم نے اس جانب توجہ نہیں دی اور سمجھ رہے تھے کہ عدالت سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔اس کے بعد شاہد حامد کا خاندان امریکہ منتقل ہوگیا اور ان تک رسائی نہیں تھی اب انصار برنی اور دیگر کچھ لوگوں کے توسط سے اپیل کی ہے کہ راضی نامہ یا صلح نامہ کرا دیں۔‘

نگہت مرزا نے واضح کیا کہ ان کے شوہر نے دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھایا ہے اور اتنی معلومات فراہم کی ہیں، اس کے بدلے انھوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ سزا موخر ہو یا معافی دی جائے۔ ’ان کی کوشش تو یہ تھی کہ کیس ری اوپن کیا جائے تاکہ صولت مرزا کی پوزیشن واضح ہو اور دوسرے محرکات بھی سامنے آئیں۔‘

سندھ ہائی کورٹ بھی دو روز قبل صولت مرزا کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کے لیے دائر درخواست مسترد کرچکی ہے۔

نگہت مرزا کا کہنا تھا کہ حکومت یا کسی ادارے نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی لیکن حکومت اگر کھل کر ساتھ نہیں دے رہی اور اگر سزا میں حکم امتناع آتا ہے تو یہ بھی ساتھ دینے کے برابر ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سیاسی وابستگی کو داؤ پر لگانے سے بڑا قدم پورے خاندان کی سکیورٹی کو داؤ پر لگانا ہے، جس طرح انھوں نے میڈیا پر آواز بلند کی ہے ایسا کبھی کسی نے نہیں کیا۔’ ہم نے کراچی میں قیام امن کے لیے اپنے 60 افراد پر مشتمل کنبے پر یہ خطرہ مول لیا ہے۔‘

یاد رہے کہ 18مارچ کی شب ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ویڈیو پیغام میں صولت مرزا نے خود کو نشانِ عبرت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایم کیو ایم میں شمولیت کا ارادہ رکھنے والے اور نئے کارکنوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ انھیں ’دیکھیں اور عبرت پکڑیں کہ کس طرح انھیں استعمال کر کے ٹشو پیپرکی طرح پھینک دیا گیا۔‘

صولت مرزا نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین پر کے ای ایس سی کے سابق سربراہ شاہد حامد کے قتل کا حکم دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے سنہ 1999 میں صولت مرزا کو ای ایس سی کے سابق سربراہ شاہد حامد کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر پھانسی کی سزا سنائی تھی

صولت مرزا نے حکام سے اپیل کی تھی کہ ان کی سزا پر عمل درآمد میں کچھ تاخیر کی جائے تاکہ وہ مزید انکشاف کر سکیں اور ان کے ’ایسے بہت سے ساتھی ہیں جو ملک کے اندر اور باہر اس بات کا اعتراف کریں گے کہ ایم کیو ایم نے ان سے کیا کروایا۔ وہ خوف کی وجہ سے اعتراف نہیں کر پارہے‘، اس بیان کے بعد ان کی سزا پر عملدر آمد روک دیا گیا تھا۔

وفاقی حکومت کے حکم پر صوبائی حکومت نے ایک جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم بھی تشکیل دی تھی، جس نے مچھ جیل جاکر صولت مرزا کا بیان قلمبند کیا تھا لیکن یہ رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی۔ اس عرصے میں تین بار ان کی سزا پر عملدرآمد موخر کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 12 مئی کے لیے دوبارہ ان کے بلیک وارنٹ جاری کردیے ہیں۔

صولت مرزا پر الزام تھا کہ انھوں نے 5 جولائی 1997 کو کراچی کے علاقے ڈیفینس میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے مینجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد، اُن کے ڈرائیور اشرف بروہی اور محافظ خان اکبر کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا۔اس کارروائی کے بعد وہ بیرون ملک فرار ہوگئے تھے۔

پولیس کے مطابق صولت مرزا کو دسمبر 1998 میں بینکاک سے واپسی پر کراچی ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا اور اُن کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی۔

عدالت نے سنہ 1999 میں صولت مرزا پر جرم ثابت ہونے پر انھیں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ اس سزا کے خلاف انھوں نے سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو مسترد ہو گئیں ۔ محکمہ داخلہ سندھ اور صدرِ پاکستان کے پاس اُن کی رحم کی اپیل ایک بڑے عرصے تک التوا کا شکار رہی۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دیگر کئی اپیلوں کے ساتھ صدر پاکستان نے صولت مرزا کی بھی اپیل مسترد کردی تھی۔

اسی بارے میں