’15 ہزار پاکستانی جرمنی میں سیاسی پناہ کے طالب‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پناہ کی درخواست کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ متعلقہ ملک اس کی معلومات کا تبادلہ نہیں کرتا ہے

پاکستان کے ایوان بالا سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں جرمنی میں 15 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے سیاسی پناہ کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ اسی عرصے کے دوران امریکہ میں یہ تعداد بظاہر کافی کم یعنی تقریباً ایک ہزار ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود کے ایک سوال کے جواب میں وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ سیاسی پناہ اکثر سیاسی ظلم و ستم اور حقوق اور آزادیاں نہ ملنے کی بنیاد پر مانگی جاتی ہے۔

درخواست کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ متعلقہ ملک اس کی معلومات کا تبادلہ نہیں کرتا ہے۔ اس وجہ سے ان درخواستوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں ہوتیں۔

ایوان میں ملک کے چند سفارت خانوں کی جانب سے ارسال کی گئی معلومات کے مطابق جرمنی میں سیاسی پناہ کے لیے پاکستانیوں کی تعداد میں سال 2010 سے مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

سنہ 2010 میں یہ تعداد 933 سے بڑھ کر سال 2014 میں 4000 سے زیادہ ہو گئی۔

سال 2010 کے بعد سے ملک میں امن و عامہ کی خراب صورتحال کی وجہ سے جرمنی میں پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں تقریبا دوگنا اضافہ ہوا تھا جو گزشتہ برس تک اسی رفتار سے بڑھتا رہا۔

جرمن حکام نے اس بارے میں پاکستان سے بات بھی کی تھی۔

امریکہ میں خیال ہے کہ زیادہ تر لوگ سیاسی پناہ کی درخواست کرتے ہیں لیکن شاید معلومات کا تبادلہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ تعداد کم نظر آتی ہے۔

سال 2010 میں یہ تعداد 200 سے بڑھ کر 1000 تک جا پہنچی ہے۔ خیال ہے کہ اکثر لوگوں کا تعلق اقلیتوں سے ہوسکتا ہے۔

پاکستان میں مذہبی بنیاد پر ہراساں کرنے کی وجوہات سب سے زیادہ بتائی جاتی ہیں۔

حالیہ برسوں میں بڑی تعداد میں پاکستان کے صوبے بلوچستان کی ہزارہ برادری فرقہ ورانہ تشدد کا نشانہ بنی رہی جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں ہزارہ نوجوانوں نے یورپ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کا رخ کیا تھا۔

اسی بارے میں