پاک افغان ہنی مون ابھی جاری

تصویر کے کاپی رائٹ ARG
Image caption حامد کرزئی ہمیشہ کہتے تھے کہ پاکستان کا طالبان پر مکمل کنٹرول ہے لیکن ڈاکٹر غنی کا کہنا ہے کہ پاکستان اثر و رسوخ تو رکھتا ہو لیکن شاید کنٹرول نہیں کرتا

پاکستان کی اعلی ترین قیادت کا دورہ افغانستان فی الحال یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان بہتر تعلقات یا ہنی مون کا سیزن ابھی برقرار ہے۔

افغانستان میں حکومت میں تبدیلی اور پاکستان میں پشاور سکول حملے کے بعد تعلقات میں بہتری کی سنجیدہ کوششوں کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ تجزیہ نگار اسے اس خطے میں قیام امن کے لیے خوش آئند مان رہے ہیں۔

لیکن ایسا بھی نہیں کہ اب تک دونوں ممالک کے درمیان ’سب اچھا‘ چلتا رہا ہے۔ اس مختصر چھ ماہ کی مدت میں صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا اہم دورہ بھارت بھی آیا اور پاکستان کی افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ناکامی بھی سامنے آئی۔

پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی جبری بےدخلی بھی دونوں حکومتوں کے لیے چیلنج ثابت ہوئی۔ لیکن ابھی تک دونوں جانب سے عوامی سطح پر کوئی منفی بیان بازی نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ دونوں نے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے کم از کم اب تک کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا ہے جس سے تعلقات میں خرابی یا تلخی پیدا ہو۔

طالبان کا مارچ میں مذاکرات کے لیے سامنے نہ آنا یقینا دونوں ممالک کی حالیہ گرمجوشی کے لیے ایک بڑا سیٹ بیک تھا۔ لیکن یہاں اسلام آباد میں سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ شاید پاکستان نے اپنے اختیار سے بڑھ کر وعدہ کر دیا یا پھر اس کا وقت سے پہلے میڈیا میں آ جانا بھی شاید نقصان دے ثابت ہوا ہے۔ جنرل راحیل شریف اگر آپ کو یاد ہو تو افغان حکومت کو یہ یقین دہانی اپنے گزشتہ دورہ کابل کے دوران کروا کر آئے تھے۔ تو اس سے شاید وقتی دھچکا تو ضرور لگا ہے۔ لیکن ایسے دھچکے سہنے کا دونوں حکومتیں تہیہ کیے ہوئے ہیں۔

ہمیں یہاں یہ بھی ماننا ہوگا کہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی سابق افغان صدر حامد کرزئی سے قدرے مختلف ہیں۔ حامد کرزئی ہمیشہ کہتے تھے کہ پاکستان کا طالبان پر مکمل کنٹرول ہے لیکن ڈاکٹر غنی کا کہنا ہے کہ پاکستان اثر و رسوخ تو رکھتا ہے لیکن شاید کنٹرول نہیں کرتا۔ تو اگر اس بیان کو سامنے رکھیں تو لگتا ہے کہ شاید افغان بھی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ طالبان سنتے سب کی ہیں لیکن کرتے اپنی ہی ہیں۔

اگر افغان طالبان مذاکرات کی میز پر نہیں آتے تو پھر صدر اشرف غنی کے لیے کیا آپشن رہ جاتی ہیں؟ اشرف غنی کی آپشنز یقیناً محدود ہیں۔ گزشتہ دنوں دوہا میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان رابطوں سے ایک بات کافی واضح ہو کرسامنے آئی ہے کہ طالبان غیرملکی افواج کی موجودگی تک بات چیت کو تیار نہیں۔

اب اس کا حل کیا ہے؟ کیونکہ افغان حکومت غیرملکی فوجیوں کا نکال نہیں سکتی جس سے سکیورٹی کا پلڑا طالبان کے حق میں جھک سکتا ہے۔ لہذا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ تمام صورتحال ڈیڈلاک کا شکار ہے اس وقت تک ہے جب تک افغانستان میں غیرملکی فوج کی ضرورت نہ رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption طالبان کے مضبوط گڑھ پاکستان کے ساتھ سرحد پر مشرقی علاقے رہے ہیں۔ لیکن وہاں طالبان حملوں کی وہ نوعیت نہیں ہے جو ماضی میں تھی

لیکن اس تمام صورتحال میں خوش آئند بات اور امید کی کرن چین کی ثالثی کی کوششیں بھی ہیں۔ طالبان دو مرتبہ وہاں کا دورہ کرچکے ہیں۔

پاکستان بھی غیرملکی افواج کے فوری اور مکمل انخلاء کو مناسب نہیں سمجھتا ہے۔ سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی تو غیرملکی افواج کے افغانستان سے انخلاف کے خلاف تھے کیونکہ ان کے خیال میں یہ خلا شدت پسند پر کرسکتے ہیں۔ اس وجہ سے افغان اور پاکستان حکومتیں اس پر متفق دکھائی دیتی ہیں۔ طالبان کے لیے یہ مشترکہ موقف مشکلات میں اضافہ کرسکتا ہے۔

ایک اور قابل ذکر بات افغان طالبان کی جانب سے افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہے لیکن اس مرتبہ اس کا زور پاکستان سے منسلک افغان علاقوں میں نہیں بلکہ شمالی اور مغربی علاقوں میں ہے۔

یہ کافی دلچسپ صورتحال ہے۔ طالبان کے مضبوط گڑھ پاکستان کے ساتھ سرحد پر مشرقی علاقے رہے ہیں۔ لیکن وہاں طالبان حملوں کی وہ نوعیت نہیں ہے جو ماضی میں تھی۔ وہ شمال میں قندوز اور بدخشاں میں لڑ رہے ہیں جس کی وجہ یا تو بظاہر پاکستان کا واضح پیغام ہے کہ سرحد پار سے انہیں کوئی مدد نہیں ملے گی ہے یا پھر جان بوجھ کر کچھ لوگوں کو شک ہے کہ شاید ایک کوشش ہے پاکستان کو اس سے دور رکھنے کی۔ وجہ جو بھی ہو فیل الحال پاکستان کے لیے یہ بہتر سمجھا جا رہا ہے۔

اس تمام صورتحال میں ایک اور پہلو پاکستانی سیاسی و فوجی قیادت کا افغان پالیسی پر ایک ساتھ ڈرائیونگ سیٹ میں ہونا ہے۔ کچھ لوگ کابل میں موجودگی کے دوران فوجی ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے ٹویٹ کو بھی معنی خیز مانتے ہیں جس میں انہوں نے طورخم سے جلال آباد شاہراہ کی تعمیر پر کام کے فوری آغاز کا اعلان کیا۔ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ بہتر ہوتا کہ اس طرح کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان دورے میں شامل وزیر خزانہ اسحاق ڈار کرتے۔

اسی بارے میں