خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی گہما گہمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ضلع، تحصیل یا ٹاؤن کی سطح کے انتخاب جماعتی بنیاد پر ہو رہا ہے جبکہ یونین کونسل یا دیہات کونسل کی سطح کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہو رہے ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں اور دیگر امیدواروں نے انتخابی مہم تیز کر دی ہے ۔ ان انتخابات میں لگ بھگ 44 ہزار نشستوں کے لیے 93 ہزار سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں ۔ یہ انتخاب 30 مئی کو ہوں گے ۔

پشاور شہر میں جگہ جگہ امیدواروں کے کیمپس لگے ہیں جلسے جلوس منعقد ہو رہے ہیں جبکہ گھر گھر جا کر ووٹ مانگنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔خیبر پختونخوا میں ان بلدیاتی انتخابات کے لیے سیاسی سطح پر بظاہر تحریک انصاف جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد ایک دوسرے کے امیدواروں کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں جیسے پاکستان پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام نے سہہ فریقی اتحاد قائم کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں یہ بلدیاتی انتخابات تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے۔ اس لیے اس میں ماضی کی نسبت تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ضلع، تحصیل یا ٹاؤن کی سطح کے انتخاب جماعتی بنیاد پر ہو رہا ہے جبکہ یونین کونسل یا دیہات کونسل کی سطح کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہو رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ترحمان سہیل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان انتخابات کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے درخواستیں دی تھیں۔ جن میں سے 93 ہزار سے زیادہ امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں ۔ ان انتخابات کے لیے ضلع ، تحصیل یا ٹاؤن ، دیہات اور یونین کونسل کی سطح پر کل 44 ہزار نشستیں ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ کچھ نشستوں پر بلامقابلہ امیدوار بھی سامنے آئے ہیں جبکہ اس مرتبہ خواتین کی اچھی خاصی تعداد انتخابات میں حصہ لے رہی ہے ۔

ان انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کا کہنا ہے کہ کامیابی کے بعد وہ اپنے علاقے کے مسائل کے حل کے لیے کوششیں کریں گے۔

امیدواروں کا کہنا تھا کہ وہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل حل کریں گے جب ان سے کہا گیا کہ وہ تو وزیر اعلی اور وزیراعظم بھی حل نہیں کر پائے تو انھوں نے کہا کہ وہ کوشش ضرور کریں گے ۔

اکثر امیدواروں کو یہ علم بھی نہیں ہے کہ انھوں نے کامیابی کے بعد کیا کرنا ہے ۔ کچھ امیدوار اب تک تھانہ کچہری کی سیاست کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔

صوبے میں بلدیاتی انتخاب کے حوالے سے احتجاج بھی کیے گئے ہیں، کہیں یونین کونسل کی حد بندی پر اعتراض کیے گئے تو کہیں امیدواروں نےانتخابی نشانات پر احتجاج کیا ہے۔

پولیس حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان انتخابات کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں