’پاکستان اور افغانستان سرحدی علاقوں میں مشترکہ کارروائیوں پر متفق‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہیں جہاں کہیں بھی ہوں انھیں ختم کر دیا جائے گا

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ طور پر مربوط کارروائیاں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ کابل میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں چھپے شدت پسند گروہوں کی کسی بھی کارروائی سے افغانستان عدم استحکام کا شکار ہوا تو ایسے گروپوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

کابل میں منگل کو دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو تین بنیادی اصولوں پر استوار رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق ان اصولوں میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند رہنا، ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینا اور ایک ملک کے دشمن کو دوسرے ملک کا دشمن سمجھنا شامل ہیں۔

افغان صدر کے بدلے بدلے تیور

پاکستان و افغانستان کے مشترکہ دشمن

پریس کانفرنس میں اشرف غنی کا بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی نے پاکستان اور افغانستان دونوں کو نقصان پہنچایا ہے اور دونوں ممالک کو ایک جیسے خطرات کا سامنا ہے جن کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کا دشمن افغانستان کا دشمن اور افعانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔‘

اس موقع پر پاکستانی وزیرِ اعظم نے کہا کہ انھیں افغانستان آ کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے اور ان کے لیے ’افغانستان آنا ایسے ہی ہے جیسے اپنے گھر آنا۔‘

نواز شریف کا کہنا تھا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے اور افغانستان کے دشمن پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر دونوں ممالک میں امن و استحکام ممکن نہیں اور انھیں ’یقین ہے کہ دونوں ممالک مل کر دہشتگردی کا جڑ سے خاتمہ کریں گے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہیں جہاں کہیں بھی ہوں انھیں ختم کر دیا جائے گا۔

افغانستان میں قیامِ امن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ افغانوں پر مشتمل مفاہتمی عمل کے بغیر افغانستان میں امن کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے افغان حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے مفاہتی عمل میں بھرپور تعاون کرنے کو تیار ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں چھپے شدت پسند گروہوں کی کوئی بھی ایسی کارروائی جس سے افغانستان عدم استحکام کا شکار ہو، اُس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں دہشت گرووں کے خلاف دونوں ملکوں کے اشتراک سے مربوط کارروائیاں کی جائیں گی۔

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید بڑھایا جائے۔

اس سے قبل کابل میں وزیرِ اعظم پاکستان اور افغان صدر کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM HOUSE
Image caption کابل میں وزیرِ اعظم پاکستان اور افغان صدر کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر اشرف غنی کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی شامل تھے۔

وزیراعظم نواز شریف نے صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد افغان چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔

افغان وزیرِ خارجہ اور وزیرِ خزانہ و مہمانداری نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

پاکستانی وفد میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز، خارجہ امور پر وزیراعظم کے مشیرِ خاص طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس 16 دسمبر کو پشاور کےآرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کے حملے کے اگلے روز ہی پاکستان کے آرمی چیف نے کابل کا ہنگامی دورہ کیا تھا اور افغانستان کی سول اور فوجی قیادت سے اہم ملاقات کی تھی۔

پاکستان کے عسکری حکام کا دعویٰ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ فضل اللہ افغان سرحدی علاقوں میں روپوش ہیں اور ان کی گرفتاری کا معاملہ افغان قیادت بات چیت میں اٹھایا جا چکا ہے۔

گزشتہ عرصے میں افغان فورسز کی جانب سے کنڑ میں موجود طالبان کے اس دھڑے کے خلاف کارروائی کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں تھیں جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پشاور کے سکول میں حملے کا ذمہ دار ہے۔

گذشتہ سال نومبر میں افغان صدر اشرف غنی نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا اور وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ماضی کو بھول کر مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے۔