ایک پرامن برادری کو نشانہ بنانا ناقابل فہم ہے: آغا خان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل راحیل شریف نے آغا خان سے ٹیلیفون پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس گھناؤنے واقعے میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے مددگاروں کو گرفتار کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے پر اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا آغا خان کا کہنا ہے کہ ’ایک پرامن برادری کو نشانہ بنانا ناقابل فہم ہے‘۔

بدھ کو آغا خان ترقیاتی نیٹ ورک کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایک پرامن برادری کو نشانہ بنانا ناقابل فہم ہے۔ میری دعائیں ہلاک اور زخمی افراد کے لواحقین کے ساتھ ہیں‘۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسماعیلی ایک پر امن عالگیر برادری ہے جو دنیا بھر میں دوسرے نسلی اور مذہبی گروہوں کے ساتھ پر امن انداز میں رہتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے آغا خان سے ٹیلیفون پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس گھناؤنے واقعے میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے مددگاروں کو گرفتار کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ جنرل راحیل نے پرنس کریم آغا خان سے ہلاک افراد کی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دل دکھی خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

اس سے قبل آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے کراچی واقعے کے بعد اپنا سری لنکا کا تین روزہ دورہ منسوخ کردیا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ نوازشریف نے دہشت گردی کے اس واقعے کو ناقابل برداشت قراردیا اور سندھ حکومت سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

اسی بارے میں