اسماعیلیوں پر حملے کے خلاف ہنزہ میں ہڑتال اور مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس مظاہرے میں اسماعیلیوں کے علاوہ دوسرے مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی حصہ لیا

پاکستان کے شمالی علاقے ہنزہ کے شہر علی آباد میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے کراچی میں اسماعیلیوں پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور اس حملے میں ملوث دہشت گردوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

ہنزہ میں آج مکمل طور پر شٹر ڈاؤن رہا۔ مظاہرین نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی اور انھیں کیفر کردار تک پہنچانے کی اپیل کی ہے۔

اس مظاہرے میں اسماعیلیوں کے علاوہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے حصہ لے کر اس واقعے کے خلاف احتجاج کیا۔

کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں 45 ہلاک

اسماعیلی برادری دہشت گردی کا نشانہ

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ہزارہ برادری سے لے کر گلگت بلتستان تک ایک مخصوص برادری کی ٹارگٹ کلنگ حکومت کے لیے سوالیہ نشان ہے اور دہشت گردوں کی جانب سے پر امن مسلک کے خلاف دہشت گرد کارروائی ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔

مظاہرین نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اس واقعے کے بعد سری لنکا کے دورے کی منسوخی اور حالات پر قابو پانے کے لیے بروقت اقدامات پر انھیں خراج تحسین پیش کیا اور فوج کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جاری موثر کاروائی کو سراہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس موقعے پر بچوں نے کراچی میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں

اسماعیلی مسلک کے پیاری علی نے اس حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ گلگت بلتستان میں اسماعیلیوں کے تمام جماعت خانوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے خصوصی دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف علاقوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں۔

ہنزہ کے ایک اور مقامی شخص شہر یار حسین نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد علاقہ غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس واقعے کے خلاف اور دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں کل بھی پرامن مظاہرہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں