’اگر لفظ مذمت نہ ہوتا تو ۔۔۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بس پر حملہ صفورا چورنگی کے قریب ہوا

کراچی میں اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی بس پر مسلح افراد کی فائرنگ کے واقعے کے بعد حسب توقع اور حسبِ معمول سوشل میڈیا پر تبصروں، تنقید، طنز، الزامات، جوابی الزامات کا سلسلہ شروع ہوا۔

سیاستدانوں نے مذمت کی، حزبِ اختلاف والوں نے شدید الفاظ میں کی جبکہ حزبِ اقتدار والوں نے دبے دبے الفاظ میں اشاروں کنایوں سے مذمت کی اور تنقید کی۔ مگر شاید ہی کوئی ہو جس نے ایسی بات کی ہو جو اس سے قبل نہیں کہی گئی یا جس کی توقع نہ ہو۔

ندا سمیر نے ٹویٹ کی کہ ’اسماعیلی جو کہ پر امن ترین برادریوں میں سے ایک ہیں، کم نظر آنے والے منظم اور تعلیم اور صحت کے شعبے میں قابل تعریف کام کرنے والے۔ بہت افسوسناک دن ہے۔‘

صحافی سید طلعت حسین نے لکھا ’حملے کا شکار ہونے والوں خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے۔ حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ کراچی انتشار کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔‘

سکیورٹی معاملات پر نظر رکھنے والے نوربرٹ المیڈا جو نے لکھا ’کراچی میں گذشتہ قریباً دو سالوں میں یہ اسماعیلی برادری پر چوتھا حملہ ہے۔ دو بار اس برادری کو سائٹ کے علاقے میں جبکہ ایک بار عائشہ منزل کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے چند پولیس اہلکاروں کی معطلی پر ایک ٹوئٹر صارف کا تبصرہ ’کیا لا یعنی بات ہے‘

اس ساری بحث میں فوج کی جانب سے حالیہ دنوں میں دیے گئے بیانات بھی زیرِ بحث آئے جن میں سربراہ جنرل راحیل شریف کی جانب سے سماجی کارکن سبین کے قتل کے بعد ’بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے‘ کی بات اور کور کمانڈرز کانفرنس کی جانب سے گذشتہ دنوں یہ بیان آنا کہ ’را پاکستان میں دہشت گردی کو شہ دے رہی ہے‘۔

حئی زیدی نے ٹویٹ کی کہ ’آپ بیرونی ایجنسیوں کو الزام نہیں دے سکتے اگر آپ نے اپنے مقامی دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کچھ نہیں کیا جنہیں اپنا گھناؤنا کام کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کیا ایک بیرونی ایجنسی پاکستان میں بداپنی پھیلانا چاہتی ہے؟ ضرور۔ مگر اتنا کہہ دینے سے پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کام ختم نہیں ہو جاتا جن کی ذمہ داری ہے اسے روکنا۔‘

فہد دیس مُکھ نے لکھا ’حیرانی کی بات ہے کہ را کے ایجنٹس چہل قدمی کرتے پاکستان میں گھس آتے ہیں اور قتلِ عام کرتے ہیں۔ ہمیں سکیورٹی کے اداروں کو اپنے ٹیکس کے مزید پیسے دینے چاہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

صحافی ندیم فاروق پراچہ نے طنز کرتے ہوئے لکھا ’مجھے لگتا ہے کہ حکام ابھی تک یہ گننے میں مصروف ہیں کہ کون کتنے نان خرید رہا ہے۔‘

اس کے علاوہ کراچی میں بد امنی کے حوالے سے علی احسن نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’آپ ایم کیو ایم پر ہمیشہ الزام لگا سکتے ہیں مگر ہمارے بھائی جو کراچی آپریشن کر رہے ہیں انہوں نے اب تک کراچی آپریشن میں ان ممنوعہ تنظیموں کے خلاف کیا کیا ہے؟‘

یوسف نذر نے لکھا کہ ’دیکھتے ہیں کہ رینجرز جن کی قیادت فوجی افسران کر رہے ہیں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی تنظیموں کے قلع قمع کرنے میں اتنا ہی جذبہ دکھائیں گے جتنا انہوں نے سیاسی مسلح گروہوں کے خلاف دکھایا تھا۔‘

جس پر ماہا جاوید نے لکھا کہ ’میرے اندازے میں رینجرز وہ واحد طاقت ہیں جنہوں نے شدت پسندوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ان سے پوچھیں جو انہیں کام کرنے کی جگہ دیتے ہیں۔‘

اور ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اس ساری بات میں قومی ایکشن پلان کا ذکر نہ ہو؟

صحافی ندیم فاروق پراچہ نے لکھا ’ایسا لگتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر کام صرف دوسری جانب سے ہورہا ہے اور یہ ابھی قیلولے (NAP) میں مصروف ہے۔‘

اور پھر مذمتی بیانات جو شاید پاکستان میں سیاستدانوں کا تکیہ کلام بن چکے ہیں جس پر چوٹ کرتے ہوئے امبر خوجا نے لکھا کہ ’ہمارے سیاستدان کیا کہتے اگر لفظ مذمت کا وجود نہ ہوتا؟ وہ کیسے ان حملوں کی توجیہ پیش کرتے؟‘

اسی بارے میں