واردات میں کون سا اسلحہ استعمال ہوا؟

کراچی میں اسماعیلی برداری کی بس پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ مسافروں کو سر، گردن اور سینے میں گولیاں ماری گئی تھیں۔

پولیس سرجن ڈاکٹر جلیل قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی عمر 20 سے 70 سال کے درمیان تھی، 43 لاشوں میں سے اٹھارہ سے انیس لاشیں ایسی تھیں جن کو صرف سر میں گولیاں لگی ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مختلف گولیوں کے خول ملے

ڈاکٹر جلیل نے بتایا کہ کچھ لاشوں پر زخم کے نشانات بھی موجود تھے جو غالباً بس کا شیشہ یا کوئی اور چیز لگنے سے ہوئے ہوں گے۔

سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ کے ایس ایس پی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ بس کے معائنے اور بیانات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بس میں سوار ہونے کے لیے دونوں گیٹ استعمال کیےگئے، جس کے بعد اس میں چار لوگ سوار ہوئے۔

ایس ایس پی راجہ عمر کے مطابق بس میں 57 نشستیں ہیں، حملہ آوروں نے تقریباً 55 نشستوں پر جاکر سر پر فائر کیا ہے، اسی وجہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

واردات کے لیے کونسا ہتھیار استعمال کیا گیا؟ پولیس افسران کے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ آئی جی غلام حیدر جمالی کا کہنا تھا کہ نائن ایم ایم پسٹل کے خول ملے ہیں، جبکہ تفتیشی افسر طارق جدون نے بتایا تھا کہ انہیں ایس ایم جی اور نائن ایم ایم کے خول ملے ہیں۔ تاہم ایس ایس پی راجہ عمر کا دعویٰ ہے کہ نائن ایم ایم پستول اور کلاشنکوف استعمال کی گئی ۔

دوسری جانب فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں ایپکس کمیٹی نے دہشت گردوں اور ملزمان کی مالی مدد پر نظر رکھنے اور شہر کے مضافاتی علاقوں کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دہشت گردوں کے حملوں سے بچا جاسکے۔

کور ہیڈ کوارٹر میں منعقد اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، ڈی جی رینجرز نے بھی شرکت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مختلف محکموں میں اہلیت کی بنیاد پر تعیناتی کی جائے گی، ملزمان کے خلاف سیاسی، مذہبی، فرقے یا کسی بھی وابستگی سے بالاتر ہوکر کارروائی ہوگی۔

اسی بارے میں