ممتاز قادری کی اپیل سماعت کے لیےمنظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ممتاز قادری کو دو مرتبہ سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے ممتاز قادری کی طرف سے عدالتی فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم ممتاز قادری کو دو مرتبہ سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ مجرم نے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے تعزیرات پاکستان کے تحت دی گئی موت کی سزا کو برقرار رکھا تھا جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دیا تھا۔

عدالتِ عالیہ کے اس فیصلے کے خلاف مجرم ممتاز قادری نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو اس درخواست کی سماعت کی۔

مجرم کے وکیل نذیر احمد نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کی مقتول سلمان تاثیر کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی بلکہ انھوں نے توہینِ رسالت کے قانون کو ’کالا‘ قانون کہا تھا۔ جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مقتول گورنر نے اس کو کالا قانون کہا تھا توہین رسالت تو نہیں کی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے سلمان تاثیر کا بیان پڑھ کر سنایا جس میں انھوں نے توہین مذہب کے قانون کی مخالفت کی تھی۔

Image caption عدالت کا کہنا تھا کہ وہ اس درخواست کا فیصلہ قانون اور آئین کی روشنی میں کریں گے

بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائض عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو کیا معلوم تھا کہ سلمان تاثیر کے دل میں کیا تھا اور محض مخالفت کی بنا پر ایک شخص کی زندگی کا خاتمہ کردیا گیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے توہینِ رسالت کی ہے تو اس کے لیے قانون اور عدالتیں موجود ہیں لیکن کسی بھی شخص کو خود فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کو مجرم قرار دے کر سزا بھی دے دے۔ اُنھوں نے کہا کہ ریاست کے قانون کی خلاف ورزی بھی کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔

بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پیغمبرِ اسلام کے دور میں کسی کو توہینِ رسالت پر سزا دی گئی تھی جس پر میاں نذیر کا کہنا تھا کہ صحابہ اکرام نے ایسے نو افراد کو قتل کیا تھا جنھوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ وہ اس درخواست کا فیصلہ قانون اور آئین کی روشنی میں کریں گے۔

سپریم کورٹ نے وفاق کی طرف سے بھی دائر کی گئی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔ اس درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں عدالت عالیہ نے ممتاز قادری کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دی جانے والی موت کی سزا کو کالعدم قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں