’کراچی میں متوازی حکومتوں کو ختم کرنا ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کراچی میں قانون کی بالادستی نہیں رہی اور حکومت تو کراچی میں ہے لیکن حکومت کے اثر و رسوخ میں کمی آئی ہے: کور کمانڈر کراچی

پاکستان کےصوبہ سندھ کے شہر کراچی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے کہا کہ کراچی کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ عمومی طور پر لسانی، فرقہ وارانہ اور سیاسی رقابت کا نتیجہ ہے لیکن اس کی جڑیں اس شہر کے پیچیدہ سٹرکچر میں ہے جہاں مافیا، مجرمان اور دہشت گرد طاقت اور کنٹرول کے لیے لڑتی ہیں۔

کراچی میں امن و امان کی صورتحال غلطیوں اور ناکامیوں کے باعث خراب ہوئی جن میں انتظامی ناکامی اور ناکارہ سیاست شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ خرابیاں فیصلہ کرنے والوں کے غلط فیصلوں کے باعث اور کچھ سٹرکچرل ہے جو کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کو درست کرنے کا وقت ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کراچی میں قانون کی بالادستی نہیں رہی اور حکومت تو کراچی میں ہے لیکن حکومت کے اثر و رسوخ میں کمی آئی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بارے میں کیا کیا جائے۔

کور کمانڈر کراچی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی ایکشن پلان پر عمل درآمد جاری رکھنا ضروری ہے۔ ’ہمیں بڑا واضح مینڈیٹ دیاگیا ہے۔ ہم ڈکیتوں، اغوا کاروں، بھتہ خوروں کے پیچھے ہیں۔‘

دیے گئے مینڈیٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے کہا کہ ’کراچی میں کی جانے والی کارروائیاں غیر سیاسی ہیں، بلا امتیاز اور ملک کے قانون کے مطابق ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’یہ ضروری ہے کہ کراچی میں آپریشن کو ان مسائل کا اختتام تصور نہ کیا جائے بلکہ اس کو اختتام کا آغاز سمجھا جائے جو بعد میں سیاست اور انتظامیہ میں جرائم کے خاتمے کا سبب بنے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہمارا مقصد مخصوص گروہوں کی پرتشدد صلاحیت کا خاتمہ، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو پرتشدد کارروائیوں سے دور کیا جانا اور انتظامیہ اور پولیس کو مضبوط کرنا ہے: کور کمانڈر کراچی

کور کمانڈر کراچی نے کہا کہ آپریشن کے باعث امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔’تاہم کچھ مصلحتوں، شدت پسندی کی سرپرستی، لسانی، فرقہ وارانہ اور سیاسی تضاد کے باعث امن و امان میں بہتری اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔‘

کور کمانڈر کراچی نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے تین اشارے بتائے۔ پہلا سٹاک ایکسچینج میں بہتری، زمینوں کی قیمتوں میں اضافہ اور تیسرا ہوٹلوں میں غیر ملکیوں کی تعداد میں اضافہ۔

ان کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ ’وائٹ کالر جرائم‘ سے بھی نمٹا جائے جو شدت پسندوں کی مدد کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’ہمارا مقصد مخصوص گروہوں کی پرتشدد صلاحیت کا خاتمہ، سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو پرتشدد کارروائیوں سے دور کیا جانا اور انتظامیہ اور پولیس کو مضبوط کرنا ہے۔‘

کور کمانڈر نے کہا کہ اہم ایشوز کے حل کے لیے سیاسی اقدامات ضروری ہیں۔ سب سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرم کو مفادات اور مصلحتوں کو چھوڑنا ہوگا اور گروہوں، مافیا کی حمایت کو ختم کرنا ہو گا۔‘

ان کا تھا ’لسانی، فرقہ وارانہ اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے مصالحتی کمیشن کا قیام ایک اچھا قدم ہو گا۔‘

لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور پولیس کو مداخلت اور اثر و رسوخ سے چھٹکارا دلایا جائے۔ ہر سطح پر بدعنوانی اور نااہلی کو چیلنج کرنا ہوگا۔‘

کور کمانڈر کراچی کا کہنا تھا کہ متوازی حکومتوں اور پاور سینٹرز کو ختم کرنا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ کراچی میں نتائج کے حصول کے لیے کچھ اقدامات ضروری ہیں۔ ’پہلا ہے ہر سطح کی سیاسی لیڈرشپ کی حمایت، دوسرا جوائنٹ ملٹری کوآرڈینیشن کا نظام جس کو واضح مینڈیٹ دیا جائے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’کراچی اور سندھ کے حالات کو بہتر کرنے کا کوئی جادوئی طریقہ نہیں ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے سیاسی اصلاحات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت میں بہتری اور اچھی گورننس اہم ہے۔‘

اسی بارے میں