لاہور: آگ سے ہلاک ہونے والے چھ بچوں کی تدفین

جنازے تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فائر بریگیڈ اور ریسکیو کی ٹیموں نے آگ پر قابو تو پا لیا لیکن اس وقت تک تمام بچے دم توڑ چکے تھے

صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے علاقے شاد باغ کے ایک گھر میں آگ لگنے سے جھلس کے ہلاک ہونے والے چھ بچوں کی تدفین کر دی گئی ہے۔

ہلاک ہونے والے بچوں میں تین لڑکے اور تین لڑکیاں شامل ہیں۔

جاں بحق بچوں کی نماز جنازہ مقامی گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

حادثہ کے باعث علاقے کی فضا سوگوار رہی اور مقامی تاجروں نے بھی ایک دن کے لیے ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے دُکانوں کو بند رکھا۔

سنیچر کی رات کو شیر شاہ روڈ پر واقع مکان میں جب لگی آگ تو اُس وقت بچے سو رہے تھے اور اُن کے والدین گھر پر موجود نہیں تھے۔

ہمارے نامہ نگار عدیل اکرم کے مطابق ابتدائی تفصیلات کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی اور اس نے جلد ہی ساری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

آگ کی اطلاع ملنے پر فائر بریگیڈ اور ریسکیو کی ٹیمیوں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا لیکن تب تک تمام بچے دم توڑ چکے تھے۔

جاں بحق ہونے والے میں مناہل، زین، انہا ، دُعا جبکہ جڑواں بچے اذان اور ازہان شامل ہیں۔ مرحوم بچوں کی عمریں ڈیڑھ برس سے چودہ برس کے درمیان تھیں۔

اہل علاقہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ریسکیو کے عملے نے سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کیا اور وہ بروقت جائے حادثہ پر نہیں پہنچا جس کی وجہ سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔

اُدھر لاہو کے ضلعی رابطہ افسر کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے اعلی سطحی اِختیاراتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو کہ فرائض میں غفلت برتنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرے گی۔

وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلی شہباز شریف نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ریسکیو اہلکاروں کی مبینہ غفلت پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اسی بارے میں