’ڈرون حملے مقامی آبادی میں عدم اعتماد کا باعث ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دفترخارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملے روکے جائیں

پاکستان کے دفتر خارجہ نے 16 مئی کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔

دفترخارجہ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملے روکے جائیں۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان کی فوج دہشت گردوں کے خلاف ضربِ عضب میں مصروف ہے اور حکومت قبائلی علاقوں میں دوبارہ آباد کاری پر توجہ دے رہی ہے اور ایسے وقت میں ڈرون حملے مقامی آبادی میں عدم اعتماد کا باعث ہیں۔

واضح رہے کہ 16 مئی کو پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق امریکی جاسوس طیارے کے ایک حملے میں تین غیر ملکیوں سمیت کم سے کم پانچ مبینہ شدت پسند ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق یہ حملہ پاک افغان سرحدی علاقے تحصیل شوال میں اس وقت کیا گیا تھا جب بغیر پائلٹ کے امریکی ڈرون طیارے سے ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال جون کے ماہ میں پاکستان فوج کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس آپریشن کے نتیجے میں فوج کا دعویٰ ہے کہ ایجنسی کے 90 فیصد علاقے کو عسکری تنظیموں سے صاف کردیا گیا ہے تاہم دور افتادہ سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں بدستور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان امریکی ڈرون حملوں کو ملکی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ سے متعدد بار سفارتی سطح پر احتجاج کر چکا ہے جبکہ امریکہ ڈرون حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف موثر ہتھیار قرار دیتا ہے۔

اسی بارے میں