دتہ خیل میں 13 دہشت گرد ہلاک، فورسز کی شوال کی جانب پیش قدمی

Image caption جوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی چوکی پر شدت پسندوں کے حملے کی اطلاعات ہیں

پاکستان کی سکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں جیٹ طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 13 دہشت گرد مارے گئے۔ جبکہ یہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ فورسز شوال کے علاقے کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔

سرکاری ریڈیو نے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے حوالے سے بدھ کی صبح خبر دی ہے کہ شمالی وزیرستان میں بمباری کے نتیجے میں 13 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور اس دوران ان کے پانچ ٹھکانے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

خیال رہے کہ یہ علاقہ پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہے اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں عظیم رہنما فقیر ایپی کی زیارت بھی واقع ہے۔

شوال کی جانب پیش قدمی

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار دتہ خیل سے آگے شوال کے علاقے کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔

مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ شوال میں وچہ درہ کے مقام پر بھی سکیورٹی فورسز نے بمباری کی ہے جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ شوال کا علاقہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شمالی وزیرستان کے علاقوں میران شاہ، میر علی اور دتہ خیل میں جاری فوجی آپریشن کے بعد سے بیشتر شدت پسند اسی علاقے میں روپوش ہو گئے تھے۔

گذشتہ چند روز کے دوران اس علاقے میں امریکی ڈرون طیاروں نے دو الگ الگ حملے بھی کیے تھے جس میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان کے محکمہ خارجہ سے ان ڈرون حملوں کی مذمت کی تھی۔

اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد نے تحصیل تیارزہ کے علاقے زیارت گئی میں سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں ایک سکیورٹی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

چند روز پہلے بھی اس علاقے میں سکیورٹی فورسز کی دو سے تین چوکیوں پر شدت پسندوں نے چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا جس میں تین اہلکار ہلاک ہو گئے تھے اور جوابی کارروائی میں چھ شدت پسند مارے گئے تھے۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب گذشتہ سال جون میں شروع کیا گیا تھا جس سے متاثر دس لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے۔

اس آپریشن میں فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق تین ماہ پہلے تک 1200 شدت پسند مارے جا چکے تھے اس کے بعد ایسی کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی کہ دونوں جانب سے اب تک کل کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور کتنا علاقہ شدت پسندوں سے بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں