پاک بھارت تعلقات 2024 میں کیسے ہوں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو دس سال بعد دیکھا جائے تو صورتِ حال آج کل سے زیادہ مختلف نہیں ہوگی جس میں بے اعتمادی اور جھگڑے کا سلسلے تقریباً وہی رہے گا جبکہ متنازع معاملوں کا حل ہونا بھی مشکل نظر آتا ہے۔‘

یہ بات ایک غیر سرکاری تنظیم کی ایک رپورٹ’2024 میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات کیسے ہوں گے‘ میں کہی گئی۔ یہ رپورٹ جمعرات کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں جاری کی گئی۔

2024 میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات کیسے ہوں گے؟

یہی سوال غیر ملکی غیر سرکاری تنظیم فریڈرک ایبرٹ سٹفٹنگ نے پوچھا اور بھارتی اور پاکستانی سیاسی رہنماؤں، سابق سفیر، فوجی اہلکاروں اور میڈیا کے نمائندوں سے جواب حاصل کیا۔

رپورٹ شائع ہونے سے پہلے سیاسی تعلقات، عسکری اور سکیورٹی تعاون، معاشی اور تجاری تعلقات اور ثقافتی پہلوؤں پر ایک تین روزہ کانفرنس میں دونوں ممالک کے نمائندوں نے بات چیت کی جس کے نتیجے میں تین منظرناموں پر اتفاق ہوا۔

پہلا اور بدترین منظرنامہ یہ ہے کہ 2024 میں اگر تصادم کی صورتِ حال پیدا ہوئی تو زیادہ ممکن ہے کہ یہ کشمیر میں شدت پسند حملے کی وجہ سے ہو۔ حملے کے بعد جنگ کا خطرہ ہو سکتا ہے، تاہم، بین الاقوامی دباؤ اور ذمہ داریوں کے باعث ، یہ لڑائی محدود رہے گی۔ تاہم، اس بات پر اتفاق ہوا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات حادثوں کے شکار رہتے ہیں اور متنازع سرحدی علاقوں میں فائرنگ کے واقعات بھی بڑھ کر تصادم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کے واقعات پیش آئے

رپورٹ کے مطابق، دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کا سلسلہ جاری رہے گا جس میں امن قائم کرنے کے عمل میں کبھی پیش رفت ہو گی اور کبھی نہیں۔ اس منظرنامے میں سویلین سیاسی قیادت کا تعلقات بہتر کرنے میں کردار اتنا ہی محدود رہے گا جیسے آج کل ہے۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ثقافتی تبادلے کے حوالے سے کچھ حد تک پیش رفت نظر آ رہی ہے، جیسے میڈیا کے مشترکہ پروگرام اور ثقافتی اور ادبی میلوں کے انعقاد میں اضافہ۔

رپورٹ کے مطابق، 2024 میں سب سے بہترین منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت بات چیت ہو رہی ہو اور امن کے قیام کے لیے بتدریج بہتری نظر آ رہی ہو۔ تاہم، ایسا ظاہر نہیں ہوتا کہ اس بہترین منظرنامے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مکمل اعتماد قائم ہو۔ اس منظرنامے میں تجاری تعلقات میں بھی بہتری نظر آئی گی لیکن سیاچن اور کشمیر کے معاملوں پر کسی قسم کے معاہدے کی امید نہیں ہے۔تاہم، سر کریک اور پانی کے معاملے میں مسائل حل ہو جائیں گے۔

اس رپورٹ کو جاری کرنے کی تقریب میں موجود بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر جہانگر اشرف قاضی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو سمجھدار اور پاکستان کے طویل مدتی مفاد کی بنیاد پر بنانی ہو گی تو اس کے لیے ہمیں اپنے سب سے بڑے ہمسائے بھارت کو اپنا حریف ملک نہیں تصور کرنا چاہیے۔ ہاں، کشمیر اور دیگر تنازعات کی وجہ سے کشیدگی چلتی رہے گی لیکن آج کل کی صورتِ حال تو نہ جنگ ہے اور نہ ہی امن اور یہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے۔ دس سال بعد اس موجودہ پالیسی کے لیے پاکستان کو بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حال ہی میں دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ کی اسلام آباد میں ملاقات بھی ہوئی لیکن بات آگے نہیں بڑھ سکی

جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سے امیدیں بہت تھیں لیکن گذشتہ ایک برس میں انھوں نے پاکستان کو یا تو نظرا انداز کیا یا چھوٹی چھوٹی باتوں کا پہاڑ بنا کر بات چیت سے دور رہنے کا جواز بنایا۔

’پاکستان کے جانب سے بھارت کی ضد اور سختی کے باعث پاکستان میں سول اور عسکری قوتوں کے درمیان تقسیم نظر آئی اور پھر خارجہ پالیسی کے معاملے میں عسکری قیادت کو تقویت حاصل ہوئی۔ ٹھیک ہے، کشمیر کا معاملہ حل نہیں ہو سکتا لیکن بھارت کو جذبات سے پاک بات چیت کی جانب آنا چاہیے۔ اس طرح پاکستان کو نظر انداز کر کے ہماری بے عزتی ہو رہی ہے۔‘

رپورٹ نے اپنی سفارشات میں زور دیا کہ دونوں ممالک کو طویل مدتی امن کی جانب غور کرنے کی ضرورت ہے، جو تجاری تعلقات بہتر کرنے اور دونوں ممالک میں قدامت پسند عناصر پر قابو پانے سے پورا ہو سکتا ہے، جبکہ افغانستان کو بھی دو طرفہ بات چیت کے موضوعات میں شامل کرنا چاہیے۔ لیکن مستقبل، آج کل سے مختلف نظر نہیں آ رہا۔

اسی بارے میں