’سراغ سےبچنے کےلیےٹاک رے کا استعمال ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحقیقاتی اداروں نے ابتدائی طور پر چاروں ملزمان کا پولیس اہلکاروں پر حملے اور بحریہ کے افسر پر فائرنگ کے مقدمات میں ریمانڈ حاصل کیا ہے

کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے مقدمے میں گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا ہے کہ وہ باہمی رابطے کے لیے ’ٹاک رے‘ نامی سافٹ ویئر استعمال کرتے تھے تاکہ ان کے رابطوں کا سراغ نہ لگ سکے۔

اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں 45 افراد ہلاک ہوئے تھے اور سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں اس حملے کے الزام میں چار ملزمان سعد عزیز، طاہر حسین، اظہر عشرت اور حافظ ناصر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جن میں سے تین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔

کراچی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق ملزمان سے برآمد ہونے والے موبائل فونز میں ’ٹاک رے‘ نامی سافٹ ویئر موجود تھا اور دوران تفتیش انھوں نے انکشاف کیا کہ ان کا آپس میں رابطہ اسی کے ذریعے رہتا تھا۔

پاکستان میں ٹاک رے کا استعمال عام نہیں ہے۔ ایک آئی ٹی ماہر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سافٹ ویئر کی مدد سے فون کو واکی ٹاکی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور انٹرنیٹ کی کم سپیڈ میں بھی یہ بہتر نتائج دیتا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں شدت پسندوں کی جانب سے وائبر کے استعمال کے بعد ماضی میں صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے وائبر اور وٹس ایپ کی سروس معطل کرنے کی درخواست کر چکی ہے۔

تاہم کراچی پولیس کے افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اب جی ایس ایم لوکیٹر کے ذریعے وائبر کے استعمال کا بھی پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

دوران تفتیش ملزمان نے پولیس حکام کو یہ بھی بتایا ہے کہ اسماعیلی بس پر حملے کے واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ ریکارڈنگ پولیس کو ملی ہے یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملزمان کو سخت سکیورٹی میں جمعرات کو عدالت لایا گیا

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ملزمان نے اپنی موٹر سائیکلوں میں پستول چھپانے کے لیے خصوصی خانے بنائے ہوئے تھے جو نشستوں کے نیچے تھے اور یہی وجہ ہے کہ شہر میں پولیس اور رینجرز کی چیکنگ کے باوجود وہ کبھی نہیں پکڑے گئے۔

تحقیقاتی اداروں نے ابتدائی طور پر چاروں ملزمان کا انسداد دہشت گردی کی عدالت سے پولیس اہلکاروں پر حملے اور نیوی افسر پر فائرنگ کے مقدمے میں ریمانڈ حاصل کیا ہے جبکہ ملیر، شرقی اور جنوبی پولیس نے ابھی بس حملے، سبین محمود قتل کیس اور دیگر مقدمات میں تفتیش کرنی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملزمان طویل عرصے تک زیر تفتیش رہیں گے۔

ادھر پولیس کی زیرِ حراست ملزمان کے بارے میں مزید معلومات بھی سامنے آئی ہیں جن کے مطابق سماجی کارکن سبین محمود کے قتل کے مبینہ ماسٹر مائنڈ سعد عزیز کراچی کے معتبر ادارے آئی بی اے سے فارغ التحصیل تھے اور ایک نجی ریستوران کے مالک تھے۔

ان کی بس حملے اور سبین محمود پر قتل میں ملوث کی خبر دن بھر سماجی ویب سائٹوں پر زیر بحث رہی۔

پولیس حکام کے مطابق اس گروپ کے سرغنہ اور اسماعیلیوں کی بس پر حملے کے ماسٹر مائنڈ ملزم طاہر منہاس کی گرفتاری جنوبی پنجاب کے علاقے سے عمل میں آئی تھی۔

ملزم کا بھائی شاہد حسین ملیر کے علاقے سپر ہائی وے لنک روڈ پر مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوا تھا۔

یاد رہے کہ 2007 میں حیدرآباد مارکیٹ پولیس نے ملزم طاہر حسین اور شاہد حسین کو پولیس مقابلے اور ہندو انجینیئر گریش کمار کے اغوا و قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا، لیکن بعد میں دونوں رہا ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں