مرزا ہاؤس کا گھیراؤ، تین ملازمین گرفتار

Image caption ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور پیپلز پارٹی کی قیادت میں پہلے سیاسی اور اب ذاتی اختلافات سامنے آ رہے ہیں

کراچی میں پولیس نے سابق وزیرِ داخلہ سندھ اور پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما ذوالفقار مرزا کے گھر کاگھیراؤ کر کے تین ملازمین کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ تینوں افراد جرائم میں ملوث تھے۔

پولیس نے جمعے کو ایک بجے کے قریب ڈیفنس میں واقع ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور قومی اسمبلی کی سابق سپیکر فہمیدہ مرزا کے گھر کاگھیراؤ کرنے کے بعد تین افراد کو حراست میں لے لیا۔

ایس ایس پی چوہدری اسد کا کہنا ہے کہ نیک محمد نوحانی، سکندر بروہی اور محمد ابراہیم کو گرفتار کر کے تین ایس ایم جیز برآمد کی گئی ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ملزم جرائم میں ملوث رہے ہیں اور ان کا تعلق لیاری گینگ وار سے بھی ہے۔

دوسری جانب سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے ایک محافظ، ڈرائیور اور گھریلو ملازم کو گرفتار کیا ہے اور اب ان پر غلط الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا تھا کہ ان کے قتل کی سازش تیار کی گئی ہے جس کا ٹاسک ایک ایس ایس پی کو دیا گیا ہے جو انھیں گرفتار کر کے بکتر بند میں ڈالے گا اور اس دوران انھیں ایک ٹیکہ لگایا جائے گا جس سے ان کی موت فطری نظر آئے گی۔

سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ان کی تمام مقدمات میں ضمانت ہو چکی ہے اور اگر ان کے خلاف کوئی مقدمات باقی ہیں تو ڈی آئی جی یا ایس ایس پی وارنٹ گرفتاری لے کر آئیں، وہ ایک پر امن اور قانون کی پیروی کرنے والے شہری ہیں اور وہ خود کو قانون کے سپرد کر دیں گے۔

ڈاکٹر مرزا کا کہنا تھا کہ جن پولیس افسران نے انھیں گرفتار کرنے سے انکار کیا انھیں ہٹا دیا گیا اور وہ افسر جنھیں پنجاب میں پوسٹنگ نہیں مل سکی اب انھیں یہ ٹاسک دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں