شمالی وزیرستان میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی فوج نےگذشتہ سال جون میں شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں کم سے کم تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ سنیچر کو بم حملہ شمالی وزیرستان کے دور افتادہ پاک افغان سرحدی علاقے دتہ خیل میں کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی معمول کی گشت پر تھی کہ اس دوران سڑک کے کنارے نصب ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ بنی۔

اطلاعات کے مطابق حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ تاہم مقامی ذرائع نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد چار بتائی ہے۔

زخمیوں کو فوج کے ہسپتال سی ایم ایچ بنوں منتقل کردیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ اور اردگرد کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔

تاہم ابھی تک فوج کی طرف سے اس حملے کے ضمن میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ دتہ خیل میں گذشتہ دو دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ جمعے کو بھی دتہ خیل کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔

گذشتہ سال جون میں فوج نے شمالی وزیرستان میں سرگرم عسکری تنظیموں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا تھا۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کا 80 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے تاہم ایجنسی کے دور افتادہ پاک افغان سرحدی علاقوں دتہ خیل اور شوال میں بدستور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سرحدی مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کےلیے حالیہ دنوں میں حتمی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔

آپریشن ضرب عضب کے باعث شمالی وزیرستان سے لاکھوں مقامی افراد بے گھر ہو چکے ہیں جو بنوں اور دیگر علاقوں میں پناہ گزین ہیں۔

تاہم حکومت نے چند ماہ پہلے متاثرین وزیرستان کی واپسی کا عمل شروع کیا ہے اور اس دوران کئی خاندان اپنے اپنے علاقوں کو واپس جاچکے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک عرصہ سے دتہ خیل ملکی اور غیر ملکی جنگجوؤں کا بڑا مرکز رہا ہے۔ کئی برس سے یہاں امریکی ڈرون طیاروں کے حملوں بھی ہو رہے ہیں جس میں کئی اہم غیر ملکی اور مقامی شدت پسند کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں