توہین مذہب کا مقدمہ، گلشن راوی میں کشیدگی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس نے مقدس اوراق کو مبینہ طور پر نذرِ آتش کیے جانے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف توہینِ مذہب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

اس واقعے کے بعد مشتعل ہجوم کی جانب سے ایک عیسائی بستی میں توڑ پھوڑ کی گئی اور گرجا گھر کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

حالات کشیدہ ہونے کے بعد علاقے میں رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو تھانہ ساندہ کی حدود میں دھوپ سڑی روڈ پر پیش آیا ہے۔

تھانہ ساندہ کے ایک اہلکار کے مطابق اس علاقے میں واقع مسیحی بستی کے رہائشی ہمایوں فیصل پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے شیرا کوٹ میں بوسیدہ مقدس اوراق رکھنے کے ڈبے سے کاغذ نکال کر انھیں آگ لگائی۔

اہلکار کے مطابق شیرا کوٹ کے رہائشی ذیشان الحق کی درخواست پر ملزم ہمایوں فیصل کے خلاف توہینِ مذہب کی دفعہ دو سو پچانوے بی کے تحت ایف آئی آر نمبر 424/15 درج کر لی گئی ہے۔

اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ مقدمہ درج ہونے اور ملزم کی گرفتاری کے باوجود اتوار کی شام ایک مشتعل ہجوم نے گلشنِ راوی کی مسیحی بستی کا رخ کیا اور وہاں متعدد گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور مقامی گرجا کو بھی نقصان پہنچایا۔

پولیس کے مطابق اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی۔

اس دوران پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج سے متعدد مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ سے ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف سر میں پتھر لگنے سے زخمی ہوگئے۔

حالات بگڑنے پر حکام نے رینجرز کو طلب کر لیا جنھوں نے موقع پر پہنچ کر کنٹرول سنبھالا۔

رینجرز کی نفری رات گئے تک علاقے میں موجود تھی اور اب علاقے میں حالات بہتر بتائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں