ایگزیکٹ کے مالک کی ضمانت کی درخواست مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نیو یارک ٹائمز نے ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا حکم جاری کیا

پاکستان کی شہر کراچی میں سندھ ہائی کورٹ نے جعلی ڈگریوں کے سکینڈل میں ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ کی امکانی گرفتاری کے خلاف حفاطتی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے اور ہدایت کی ہے کہ ملزم کو ہراساں نہ کیا جائے۔

پیر کو دائر ہونے والی درخواست میں شعیب شیخ نے حفاظتی ضمانت کی گزارش کی تھی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جب ان کے خلاف کوئی مقدمہ ہی درج نہیں ہوا تو پھر وہ کیوں ضمانت چاہتے ہیں؟

شعیب شیخ کے وکیل انور منصور خان نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے جعلی ڈگریوں کے مقدمے کی تحقیقات کر رہا ہے اور اس کو گرفتاری کا اختیار حاصل ہے۔

بڑے بول کا بڑا نتیجہ

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ نیویارک ٹائمز نے ایک بے بنیاد اور بوگس رپورٹ شائع کی ہے کہ ایگزیکٹ کمپنی طالب علموں کو جعلی اسناد جاری کرتی ہے۔ ایف آئی اے نے اس کہانی کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کیا اور کمپنی کے کئی کمپیوٹر، پرنٹر، آلات، دستاویزات کے ساتھ کئی ملازمین کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے اس تحقیقاتی کارروائی کی وجہ سے کمپنی کا کام متاثر ہوا اور ملازمین اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر پا رہے۔ انھوں نے بتایا کہ کمپنی کے مرکزی دفتر کا سی سی ٹی وی نظام بھی بند کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ایک پرامن اور قانون کی پیروی کرنے والا شہری ہے جو کبھی کسی غیر قانونی یا جعلی سازی کے عمل میں شریک نہیں رہا، یہ انکوائری بے بنیاد ہے، اس کا مقصد کمپنی کے نیوز چینل ’بول‘ کو نشانہ بنانا ہے۔

ایڈووکیٹ انور منصور خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار ایف آئی اے کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کرنے اور اپنا اصل پاسپورٹ عدالت کی حفاظت میں دینے کے لیے تیار ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے حفاظتی ضمانت کی مخالفت کی اور عدالت کو آگاہ کیا کہ اس وقت شعیب شیخ کے خلاف کوئی بھی ایف آئی آر درج نہیں، حفاظتی ضمانت ان ملزمان کو دی جاتی ہے جن کے خلاف ایف آئی آر درج ہوتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ انکوائری بے بنیاد ہے ، اس کا مقصد کمپنی کے نیوز چینل ’بول‘ کو نشانہ بنانا ہے

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے دعویٰ کیا کہ ایگزیکٹ کے دفتر پر چھاپہ نہیں مارا گیا اور نہ ہی دفتر سیل کیا گیا ہے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ملازمین معمول کے مطابق دفتر آ جا رہے ہیں اور ایف آئی اے حکام صرف تحقیقات کر رہے ہیں۔

تاہم ڈپٹی اٹارنی جنرل نے واضح کیا کہ اگر ٹھوس ثبوت دستیاب ہوں گے تو مقدمہ درج کیا جائے گا۔

عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست مسترد کر دی اور ساتھ میں ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی ہے کہ شعیب شیخ کو ہراساں نہ کیا جائے۔ ضمانت کے لیے شعیب شیخ خود عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ نیو یارک ٹائمز نے سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا حکم جاری کیا۔

ایف آئی اے نے کراچی میں مرکزی دفتر اور راولپنڈی میں ریجنل دفتر میں ملازمین سے پوچھ گچھ اور ریکارڈ کی چھان بین کی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی عدالت سے کمپنی اور اس کے ڈائریکٹرز کے 34 بینک کھاتوں تک رسائی بھی حاصل کرلی ہے۔

اسی بارے میں