آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کو توہینِ عدالت کا نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عدالت نے یہ حکم پیر کو سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی درخواست پر جاری کیا

سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ صوبائی حکومت منگل کی صبح تک عدالت کو بتائے کہ کس کے احکامات پر عدالت کا محاصرہ ہوا؟

عدالت کا کہنا تھا کہ سادہ کپڑوں میں نقاب پوش اہلکاروں کو کارروائی کا حکم کس نے جاری کیا؟ اور کس نے صحافیوں پر تشدد کی ہدایات جاری کیں؟

عدالت نے یہ حکم پیر کو سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی درخواست پر جاری کیا۔

عدالت نے چیف سیکریٹری اور سیکریٹری داخلہ سے یہ بھی سوال کیا کہ اس کارروائی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا ہے؟

اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ آئی جی نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس تعینات کی گئی تھی تاہم وہ یہ نہیں بتا سکے ہیں کہ کیا یہ آپریشن قانونی تھا، یہ کس کی قیادت میں ہوا اور کس نے اس کی ہدایت جاری کی؟

عدالت کے مطابق اس میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ آئی جی غلام حیدر جمالی کی خاموش ظاہر کر رہی ہے کہ وہ حقائق چھپا رہے ہیں۔ ان حالات میں ایسا لگتا ہے کہ پولیس کا یہ عمل انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے اور توہینِ عدالت کے مترادف ہے۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا ہے کہ اگر مطلوبہ سوالات کے جوابات نہیں ملے تو پھر آئی جی غلام حیدر جمالی اور ایڈیشنل غلام قادر تھیبو خلاف اقدامات اٹھانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوگا، رویے سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ آئی جی، ایڈیشنل آئی جی اور ایس ایس پی جنوبی اس آپریشن کی کمانڈ کر رہے تھے۔

اس سے قبل عدالت نے جیسے ہی کارروائی کا آغاز کیا تو ایڈووکیٹ جنرل ڈاکٹر عبدالفتاح ملک نے گذاش کی کہ مقدمے کی سماعت چیمبر میں کی جائے۔ جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس سجاد علی شاہ نے یہ گذارش مسترد کردی۔

انھوں نے چیف سیکریٹری صدیق میمن، سیکریٹری داخلہ مختار سومرو، آئی جی غلام حیدر جمالی، ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو، ڈی آئی جی جنوبی ڈاکٹر جمیل احمد اور ایس ایس پی چوہدری اسد کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم جاری کیا اور سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔

جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالت نے سوال کیا کہ کس کے کہنے پر عدالت کے دروازے بند کیے گئے؟، لوگوں کو نکلنے نہیں دیا گیا، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی جنوبی کون ہیں؟ ہم انھیں معطل دیکھنا چاہتے ہیں۔

چیف سیکریٹری صدیق میمن نے کہا کہ عدالت کے ہر فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل ہوگا۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ عدالت کا محاصرہ کرکے راستے بند کرنا عدالت پر حملے کے مترادف ہے، جدید اسلحے سے لیس سادہ کپڑوں میں نقاب پوش عدالت کا گھیراؤ کر کے کھڑے تھے اور وہ لوگوں کو تشدد کرکے پولیس موبائی میں لیکر جا رہے تھے۔ ہمارے پاس اس کا رکارڈ موجود ہے۔

آئی جی غلام حیدر جمالی نے کہا کہ عدالت کا گھیراؤ نہیں کیا گیا تھا دراصل جدید اسلح سے لیس کچھ لوگ عدالت میں داخل ہوگئے تھے انہیں روکا گیا تھا، جس پر عدالت نے کہا کہ ہم نے آپ کو قانون کے مطابق کارروائی سے نہیں روکا ہمارا سوال تو یہ ہے کہ عدالت کا محاصرہ کیوں کیا گیا؟ اگر ایک شخص عدالت میں پیش ہونے آ رہا ہے اس کو کیسے روکا جاسکتا ہے؟

آئی جی غلام حیدر جمالی کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد سے خطرناک اسلحہ برآمد ہوا ہے، وہ دہشت گرد عدالت میں داخل ہوکر فائرنگ کرکے جج صاحبان، وکلا اور دیگر شہریوں کو نقصان پہنچا سکتے تھے۔

عدالت نے کہا کہ جن کو آپ دہشت گرد قرار دے رہے ہو ان سے فائرنگ کا کتنا تبادلہ ہوا؟، ہمارے پاس سی سی ٹی وی فوٹج موجود ہے زیادہ وفاداری دکھانے کی کوشش نہ کریں۔

عدالت نے کہا کہ ضلعے جنوبی کے تمام افسران معطل ہونے چاہیں ہم آپ کو سی سی ٹی وی فوٹج دیتے ہیں وہ دیکھیں اور ذمہ دار افسران کے بارے میں آگاہ کریں۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ اگر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اتنا بڑا دہشت گرد تھا تو پھر اس کو وزیر داخلہ کیوں بنایا گیا؟ پولیس حکومت کا آلہ کار نہ بنے۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں پیشی کے وقت پولیس نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے محافظوں سمیت 20 افراد کو تشدد کے بعد حراست میں لے لیا تھا، اس کارروائی کے دوران صحافیوں کو بھی زدو کوب کیا گیا۔

اسی بارے میں