گلشن راوی: پولیس، رینجرز بددستور تعینات، زیادہ تر عیسائی مکانوں پر تالے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری علاقے میں موجود ہے جبکہ رینجرز اہلکار بھی کچھ فاصلے پر موجود ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مقدس اوراق کو مبینہ طور پر نذرِ آتش کیے جانے کے واقعے کے بعد علاقے کے زیادہ تر عیسائی رہائشی علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اتوار کو پولیس نے مقدس اوراق کو مبینہ طور پر نذرِ آتش کیے جانے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف توہینِ مذہب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

توہین مذہب کا مقدمہ، گلشن راوی میں کشیدگی

اس واقعے کے بعد ایک مشتعل ہجوم نے ایک عیسائی بستی میں توڑ پھوڑ کی اور گرجا گھر کو نقصان پہنچایا۔

دھوپ سڑی روڈ پر تقریباً ایک سو عیسائی افراد رہائش پذیر ہیں، جن میں سے اب زیادہ تر مکانوں کو تالے لگے ہوئے ہیں۔

اہلِ محلہ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر عیسائی علاقہ چھوڑ کر چلے گئے تھے لیکن وہ پیر کی صبح پولیس کی موجودگی کے باعث دوبارہ اپنے گھروں کو واپس آ گئے ہیں۔

صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری علاقے میں موجود ہے جبکہ رینجرز بھی کچھ فاصلے پر موجود ہیں۔

یاد رہے کہ اتوار کو حالات کشیدہ ہونے کے بعد علاقے میں رینجرز کو تعینات کر دیا گیا تھا۔

دھوپ سڑی روڈ کی ایک رہائشی راشدہ عالمگیر نے بی بی سی اردو کو بتایا: ’جب یہ واقعہ پیش آیا ہے تو میں اپنے بچوں کے ساتھ مکان کے اندر تھی جبکہ مشتعل افراد باہر توڑ پھوڑ کر رہے تھے۔ میں شب 12 بجے تک اپنے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں محصور رہی۔ کبھی ہم ایک کمرے میں جاتے تھے اور کبھی دوسرے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ شب 12 بجے ان کو پولیس نے مکان سے نکالا۔ ’میں نے رات اپنے رشتے داروں کے ہاں گزاری اور اب صبح دوبارہ اپنے مکان پر واپس آئی ہوں۔‘

علاقے میں واقع گرجا گھر پر بھی تالا لگا ہوا ہے۔ گرجا گھر کے پادری ریاض عارف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے اپنے بیوی بچوں کو علاقے سے نکال دیا تھا۔

’میں خود مکان ہی میں محصور رہا کیونکہ میری والدہ بوڑھی ہیں اور ان کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا۔‘

دھوپ سڑی روڈ کے ایک رہائشی نے کہا کہ مشتعل ہجوم کو قابو کرنے کی کوشش کی گئی جس میں کامیابی ہوئی۔

’لیکن شام آٹھ بجے کے بعد سے باہر سے لوگ آنا شروع ہو گئے اور مظاہرے میں شدت آنی شروع ہو گئی جس کے باعث مشتعل ہجوم کو قابو نہیں کیا جا سکا۔‘

علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ مقدس اوراق کو مبینہ طور پر نذرِ آتش کیے جانے کے الزام میں جس شخص کو حراست میں لیا گیا ہے وہ محلے میں جھاڑو لگایا کرتا تھا۔

اسی بارے میں