ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ کو حراست میں لے لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سندھ ہائی کورٹ جعلی ڈگریوں کے سکینڈل میں شعیب شیخ کی امکانی گرفتاری کے خلاف حفاطتی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ کو کراچی سے حراست میں لے لیا ہے۔

ایف آئی اے سندھ کی ٹیم نے ڈائریکٹر شاہد حیات کے ہمراہ ایگزیکٹ کی مرکزی عمارت سے ملحقہ اسی کمپنی کے دفتر پر منگل اور بدھ کی درمیانی شب چھاپہ مارا۔

ایگزیکٹ کے مالک کی ضمانت کی درخواست مسترد

’ایگزیکٹ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں‘

ایگزیکٹ کے خلاف یہ کارروائی امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی وہ خبر سامنے آنے کے بعد شروع ہوئی ہے جس میں ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

شاہد حیات نے چھاپے کے بعد مقامی میڈیا کو بتایا کہ تلاشی کے دوران ایگزیکٹ کے خلاف کافی ثبوت حاصل کیے گئے ہیں اور اب کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹ کی عمارت سے ملحقہ دفتر سے بڑی تعداد میں جعلی ڈگریاں اور طلبا کے کارڈ برآمد ہوئے ہیں جبکہ ایگزیکٹ کے دفتر سے بھی ڈی وی ڈیز اور دیگر سامان ملا ہے۔

ایف آئی اے کے چھاپے کے بعد اس عمارت کو سِیل کر دیا جہاں سے جعلی ڈگریاں برآمد ہوئی تھیں۔

خیال رہے کہ ایگزیکٹ اور ٹی وی چینل ’بول‘ کے مالک شعیب شیخ نے گذشتہ روز ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کے دفتر میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے جعلی ڈگریوں کے سکینڈل میں ان کی امکانی گرفتاری کے خلاف حفاطتی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی تاہم حکام کو یہ ہدایت کی تھی کہ ملزم کو ہراساں نہ کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک خبر میں پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جس پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم جاری کیا تھا

یاد رہے کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک خبر میں پاکستانی آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ پر جعلی آن لائن یونیورسٹیوں کے قیام اور جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جس پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے کراچی میں کمپنی کے مرکزی دفتر اور راولپنڈی میں علاقائی دفتر میں ملازمین سے پوچھ گچھ اور ریکارڈ کی چھان بین کی ہے۔ اس کے علاوہ ادارے نے کمپنی اور اس کے ڈائریکٹرز کے 34 بینک کھاتوں تک رسائی بھی حاصل کر لی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے پاکستان میں بیورو چیف ڈیکلن والش نے اپنی خبر میں کمپنی پر الزام لگایا تھا کہ ایگزیکٹ انٹرنیٹ پر امریکہ، کینیڈا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں جعلی ڈگریاں فروخت کر کے لاکھوں ڈالر کما رہی ہے۔

اس خبر میں کمپنی کے سابق اہلکاروں اور متاثرین سے تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ نیویارک ٹائمز نے ایگزیکٹ کی ان مبینہ آن لائن یونیورسٹیوں اور کالجوں کی فہرست شائع کرتے ہوئے ان کا تکنیکی تجزیہ بھی پیش کر کے ان کا ایگزیکٹ سے مبینہ تعلق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس خبر پر ایگزیکٹ نے نیویارک ٹائمز اور ڈیکلن والش کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا تھا اور اپنی ویب سائٹ پر شائع بیان میں ان الزامات کو بے بنیاد، ہتک آمیز اور غیر معیاری قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں