’انڈین سیاست پاکستان دشمنی کےگردگھومتی ہے‘

Image caption طارق فاطمی کے بقول بھارتی سیاسی جماعتیں اور رہنما پاکستان کی مذمت کر کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے کہا ہے کہ بھارت کی تمام اہم سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں پاکستان کے خلاف عوامی جذبات کو ابھار کر اور پاکستان پر تنقید کر کہ وہ زیادہ ووٹ حاصل کر سکتی ہیں۔

مشیر خارجہ کے بقول بھارتی سیاسی جماعتوں کی یہی سوچ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

پاک بھارت تعلقات، ’تالی ایک ہاتھ سے نہیں بج سکتی‘

پاک بھارت تعلقات 2024 میں کیسے ہوں گے؟

طارق فاطمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت میں کوئی بھی ممتاز سیاسی جماعت یا رہنما ایسا نہیں ہے، جس نے اتنے حوصلے کا مظاہر کیا ہو اور کہا ہو کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان ایک حقیقت ہے، ہمارا پڑوسی ہے جس کے ساتھ ہمارے اپنے اور خطے کے فائدے کے لیے اچھے تعلقات ہونے چاہیں۔‘

طارق فاطمی کے بقول، اس کے بر عکس بھارتی سیاسی جماعتیں اور رہنما پاکستان کی مذمت کر کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

’ہندوستان میں بہت سے سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان پر تنقید کرنا، پاکستان کی مذمت کرنے سے شاید وہ زیادہ ووٹ حاصل کر سکیں گے۔‘

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی حکومت کو ایک برس مکمل ہونے پر بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان میں بھارت دشمنی اب انتخابی نعرہ نہیں جبکہ بھارتی سیاست اب بھی پاکستان دشمنی کے گرد گھوم رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں صورتحال بہت مختلف ہے۔ بھارت کے بارے میں یہاں سیاستدان بہت پختہ ہو چکے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھارت کے خلاف نعرے لگا کر ووٹ مانگنے کا وقت گزر چکا ہے۔ ہماری سیاست کا طرز عمل بھارت کے مقابلے میں بہت زیادہ ذمہ داری کا ہے اور میری دعا ہے بھارت بھی اس طرز عمل اور پختگی کا مظاہرہ کرے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہم نے را اور بھارتی ایجنسیوں پر جو بھی الزام لگائے اس کے ثبوت بھی دیے لیکن کبھی ایسا بیان نہیں دیا کہ ہم بھارت کے خلاف جارحیت کا ارادہ رکھتے ہیں: طارق فاطمی

طارق فاطمی کے بقول بھارتی سیاستدانوں کا یہی رویہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں ایک رکاوٹ بن چکا ہے اور اس پر پاکستان سخت مایوسی کا شکار ہے۔

’اس میں کوئی شک نہیں ہے ہم مایوسی کا شکار ہیں۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات شروع کرنے میں دونوں ملکوں کا فائدہ تھا۔ ہم نے اپنی طرف سے مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کی، انہیں دعوت نامہ بھیج دیا اور اب پاکستان اس سلسلے میں مزید کوئی پہل نہیں کرے گا۔‘

طارق فاطمی نے کہا کہ اب تو حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ بھارتی وزیر دفاع کھلم کھلا دھمکی دے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہاں ایک بات واضح ہونی چاہیے، پاکستان اپنا دفاع کرنا خوب جانتا ہے اس لیے کسی دھمکی سے ڈرنے والا نہیں ہے۔ ہمیں اس طرح کی دھمکیوں سے نہ ڈرایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اشتعال دلایا جا سکتا ہے۔‘

اس سوال پر کہ پاکستان بھی تو بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام لگاتا رہتا ہے، طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان نے کبھی یہ نہیں کہا کہ بھارت کے خلاف دہشت گردی کی جائے گی۔

’ہم نے را اور بھارتی ایجنسیوں پر جو بھی الزام لگائے اس کے ثبوت بھی دیے لیکن کبھی ایسا بیان نہیں دیا کہ ہم بھارت کے خلاف جارحیت کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

طارق فاطمی نے کہا کہ یہ صرف غیر ملکی میڈیا کا پراپیگنڈہ ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش صرف وزیراعظم نواز شریف کی ہے اور پاکستانی فوج اور بعض دیگر ریاستی ادارے ایسا کرنے کے خلاف ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ پاکستان کے سیاست دان، ادارے اور سرکاری تنظیمیں وزیراعظم کی بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی پالیسی کی حامی ہیں۔‘

اسی بارے میں