ڈسکہ ہلاکتیں، جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ واپس

Image caption پنجاب حکومت کے مطابق پانچ رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے اپنی چھان بین شروع کردی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے ڈسکہ میں دو وکلا کی ہلاکت کے معاملے پر عدالتی تحقیقات کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

اس مقصد کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منظور ملک نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے ایک خط بھی لکھا ہے ۔

وکلا تنظیموں کے جوڈیشل کو مسترد کرنے کے چند گھنٹوں بعد پنجاب حکومت نے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ واپس لے لیا اور اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے دی جانے والی درخواست واپس لینے کی استدعا کی ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے دی جانے والی درخواست واپس لینے کی اجازت دے دی۔

پیر کے روز پنجاب کے وسطی علاقے ڈسکہ کی تحصیل ڈسکہ بار کے صدر رانا خالد عباس اور عرفان چوہان ایڈووکیٹ کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت ہوگئی تھی۔

دوسری جانب ڈسکہ میں دو وکلا کی ہلاکت کے بعد لاہور میں ہائی کورٹ میں ریجنرز کی تعیناتی میں مزید ایک دن کی توسیع کردی گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب لاہور ہائی کورٹ میں پولیس کی جگہ ریجنرز نے سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

اس قبل وکلا تنظیموں نے پنجاب حکومت کی جانب سے عدالتی تحقیقات کرانے کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اس کو بلاجواز قرار دیا تھا۔ وکلا تنظیموں کے مشترکہ مذمتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر پیر مسعود چشتی نے واضح کیا کہ نہ تو وکلا جوڈیشل کمیشن کو قبول کریں گے اور نہ ہی وکلا اس کمیشن کا حصہ بنیں گے۔

لاہو رہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر پیر مسعود چشتی نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی ضرورت اس جگہ ہوتی ہے جہاں ملزموں یا ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے لیکن صورت حال بالکل مختلف ہے اور یہاں سب کو معلوم ہے کہ اصل قصور وار کون ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وکلا تنظیموں نے پنجاب حکومت کی جانب سے عدالتی تحقیقات کرانے کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اس کو بلاجواز قرار دیا تھا

ادھر پنجاب حکومت جوڈیشل تشکیل دینے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے اعلان کیا کہ ڈسکہ واقعے کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کردیا گیا اور صوبائی ہوم سیکرٹری نے اس معاملے کی چھان بین کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کردی ہے جو قانون نافذ کرنے والی ایجنسنوں کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔

پنجاب حکومت کے مطابق پانچ رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے اپنی چھان بین شروع کردی ہے۔

پیر مسعود چشتی نے مطالبہ کیا کہ مقدمہ کاچالان پندرہ دنوں میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے۔

انھوں نے اعلان کیا کہ مقدمہ کی پیروی کے لیے وکلا پر مشتمل ایک ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے اور مقدمہ کا ٹرائل 15 دنوں میں مکمل کریں گے۔

ڈسکہ میں پیش آنے والے واقعے کے لاہور ہائی کورٹ میں مامور پولیس اہلکاروں کو ان کی ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ رینجرز کو تعینات کیا۔ ریجنرز کے اہکاروں نے منگل کی صبح اپنی ذمہ داریاں سنھبالیں تھیں اور ہائی کورٹ کی عمارت کے اندر چار اطراف میں ڈیوٹی دی۔

وکلا نے اپنے احتجاج کے دوران منگل کو لاہو رہائی کورٹ کے گیٹ کے باہر ایلیٹ فورس کی ایک گاڑی کو آگ لگادی تھی اور اس میں سوار ڈرائیور نے بھاگ کر اپنی جان بچائی تھی۔

اس سے پہلے پیر کو وکلا احتجاج کے دوران وکلا نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس منظور ملک کی گاڑی کو بھی اس وقت روک لیا تھا جب چیف جسٹس مسٹر جسٹس منظورملک ہائی کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کے ہمراہ لاہور ہائی کورٹ سے باہر آرہے تھے۔ وکلا احتجاج کی وجہ سے چیف جسٹس ہائی کورٹ اور جسٹس منصور علی شاہ کو گاڑی سے اترنا پڑا تھا۔

پنجاب بھر کے وکلا کی نمائندہ تنظیم پنجاب بارکونسل نے اپنے احتجاج میں بھی توسیع کردی ہے اور اعلان کیا کہ 27 اور 28 مئی کو وکلا احتجاج کریں اور عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔

اسی بارے میں