سہولیات ہوں تب بھی غار تو غار ہے

Image caption ضلع اٹک کے شہر حسن ابدال کے آس پاس پہاڑیوں میں ایسے غاروں میں رہائش کی پرانی روایت ہے

پتھر کے زمانے میں انسان غاروں میں رہتا تھا، تاہم ضلع اٹک کے شہر حسن ابدال کے آس پاس ایسے غار موجود ہیں جہاں نہ صرف لوگ رہتے ہیں، بلکہ بجلی اور پانی کی سہولیات بھی موجود ہیں۔

اسلام آباد سے حسن ابدال شہر جانے والی جی ٹی روڈ کی مرکزی شاہراہ سے ایک پگڈنڈی کے راستے ایک پہاڑی سے اوپر جائیں تو یہاں کئی مکان نظر آتے ہیں۔ پگڈنڈی کے آخر میں پہاڑی کے ساتھ ایک احاطہ ہے جس میں تین غار اور دو پکے کمرے ہیں۔

جو خاندان یہاں رہتا ہے اس کی سربراہ 90 سالہ صادق سلطانہ ہیں۔ انھوں نے بتایا ان کی پیدائش انہی غاروں میں ہوئی تھی اور اس وقت اسی پہاڑی میں ایک قطار میں کئی غاروں میں ان کے خاندان کے مکان تھے۔ لیکن کچھ سال پہلے تیز بارش سے یہ غار مسمار ہوگئے۔

’میرے والدین اور چچا کے غار تھے جو اب گر گئے ہیں۔ اب صرف تین رہ گئے ہیں۔ بارش ہوتی ہے تو ڈر ہی لگتا ہے۔ جب بادل گرجتے ہیں اور برستے ہیں تو خطرہ ہی رہتا ہے۔ لیکن کہاں جائیں، اور جگہ بھی نہیں ہے۔ ہم غریب لوگ ہیں۔‘

اب ان غاروں میں ان کے علاوہ ان کے پوتے رہتے ہیں، جو ٹھیلہ چلا کر روزانہ دو تین سو روپے کما لیتے ہیں۔

صادق سلطانہ کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان سات پشتوں سے ان غاروں میں رہتا چلا آیا ہے اور ان کا اندازہ ہے کہ یہ کم سے کم تین یا چار سو سال پرانے ہیں۔

ضلع اٹک کے شہر حسن ابدال کے آس پاس پہاڑیوں میں ایسے غاروں میں رہائش پرانی روایت ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 100 سے زیادہ خاندان ایسے ہی غاروں میں رہتے ہیں۔

ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ ہر موسم میں آرام دہ ہیں یعنی گرمیوں میں ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم۔ لیکن زیادہ بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ غربت کی وجہ سے پکے مکان نہیں بنا سکتے۔

Image caption ’یہ مزار 40 یا 50 سال پرانا ہے۔ اور غاروں کا یہ سلسلہ پہاڑی کے پار تک جاتا ہے۔ نو غار ہیں اور جب میلہ ہوتا ہے تو کالین بچھائے جاتے ہیں اور آس پاس کے 25 گاؤں سے لوگ آتے ہیں۔ صرف ایک غار میں 60 لوگ سو سکتے ہیں‘

لیکن یہاں کچھ ایسے بھی غار ہیں جو زندگی کی چہل پہل سے دور سکون تلاش کرنے والوں کے لیے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے حسن ابدال شہر سے تھوڑا دور، ایک پرانے مزار کے ساتھ غاروں کا سلسلہ بنایاگیا ہے۔

پاس ہی ایک گاؤں کے رہائشی زین رہتے ہیں۔ انھوں نے مجھے پہاڑی میں بنائے غاروں کا دورہ کرایا۔ ’یہ مزار 40 یا 50 سال پرانا ہے۔ اور غاروں کا یہ سلسلہ پہاڑی کے پار تک جاتا ہے۔ نو غار ہیں اور جب میلہ ہوتا ہے تو قالین بچھائے جاتے ہیں اور آس پاس کے 25 گاؤں سے لوگ آتے ہیں۔ صرف ایک غار میں 60 لوگ سو سکتے ہیں۔‘

Image caption یہاں کچھ ایسے بھی غار ہیں جو زندگی کی چہل پہل سے دور سکون تلاش کرنے والوں کے لیے ہیں

یہاں کے خاندان ان غاروں میں زندگی گزار تو رہے ہیں، لیکن انھیں موقع اور آمدنی ملے تو وہ بھی پکا مکان بنوا لیں۔ آخر غار جتنا بھی جدید سہولیات سے لیس ہو، ہوتا تو مٹی کا غار ہی ہے۔

اسی بارے میں