ایگزیکٹ کے سربراہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption شعیب شیخ نے منگل کو ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کے دفتر میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کی ایک عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی استدعا پر جعلی ڈگریوں کے معاملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ اور وقاص عتیق سمیت پانچ ڈائریکٹروں کو سات جون تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی کے حوالے کر دیا ہے۔

ایف آئی اے نے استدعا کی تھی کہ ملزمان سے مزید تفتیش کرنی ہے لہٰذا 14 روز کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ایف آئی اے نے شعیب شیخ اور وقاص عتیق سمیت پانچ ڈائریکٹروں کو ہتھکڑیاں لگاکر کر جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ریمانڈ کے لیے پیش کیا تھا۔

ایگزیکٹ کے مالک کی ضمانت کی درخواست مسترد

’ایگزیکٹ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں‘

اس سے قبل پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے جعلی ڈگریوں کے معاملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

شعیب شیخ کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب حراست میں لیا گیا تھا اور اب وہ زیرِ تفتیش ہیں۔

ایف آئی اے کے حکام نے شعیب شیخ کے خلاف مقدمہ بدھ کو درج کیا ہے اور انھیں جمعرات کو عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شعیب شیخ کے ساتھ ان کی کمپنی کے ڈائریکٹر وقاص عتیق بھی زیرِ حراست ہیں۔

شعیب شیخ کے خلاف مقدمے میں جعلسازی، دھوکہ دہی اور فراڈ سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایگزیکٹ کے خلاف یہ کارروائی امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی وہ خبر سامنے آنے کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے سندھ کی ٹیم نے ڈائریکٹر شاہد حیات کے ہمراہ ایگزیکٹ کی مرکزی عمارت سے ملحقہ اسی کمپنی کے دفتر پر منگل اور بدھ کی درمیانی شب چھاپہ مارا تھا۔

شاہد حیات نے چھاپے کے بعد مقامی میڈیا کو بتایا کہ تلاشی کے دوران ایگزیکٹ کے خلاف کافی ثبوت حاصل کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹ کی عمارت سے ملحقہ دفتر سے بڑی تعداد میں جعلی ڈگریاں اور طلبا کے کارڈ برآمد ہوئے ہیں جبکہ ایگزیکٹ کے دفتر سے بھی ڈی وی ڈیز اور دیگر سامان ملا ہے۔

ایف آئی اے کے چھاپے کے بعد اس عمارت کو سِیل کر دیا جہاں سے جعلی ڈگریاں برآمد ہوئی تھیں۔

خیال رہے کہ ایگزیکٹ اور ٹی وی چینل ’بول‘ کے مالک شعیب شیخ نے منگل کو ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کے دفتر میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے جعلی ڈگریوں کے سکینڈل میں ان کی امکانی گرفتاری کے خلاف حفاطتی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی تاہم حکام کو یہ ہدایت کی تھی کہ ملزم کو ہراساں نہ کیا جائے۔

یاد رہے کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک خبر میں پاکستانی آئی ٹی کمپنی ایگزیکٹ پر جعلی آن لائن یونیورسٹیوں کے قیام اور جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جس پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے کراچی میں کمپنی کے مرکزی دفتر اور راولپنڈی میں علاقائی دفتر میں ملازمین سے پوچھ گچھ اور ریکارڈ کی چھان بین کی ہے۔ اس کے علاوہ ادارے نے کمپنی اور اس کے ڈائریکٹرز کے 34 بینک کھاتوں تک رسائی بھی حاصل کر لی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک خبر میں پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جس پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم جاری کیا تھا

نیویارک ٹائمز کے پاکستان میں بیورو چیف ڈیکلن والش نے اپنی خبر میں کمپنی پر الزام لگایا تھا کہ ایگزیکٹ انٹرنیٹ پر امریکہ، کینیڈا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں جعلی ڈگریاں فروخت کر کے لاکھوں ڈالر کما رہی ہے۔

اس خبر میں کمپنی کے سابق اہلکاروں اور متاثرین سے تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ نیویارک ٹائمز نے ایگزیکٹ کی ان مبینہ آن لائن یونیورسٹیوں اور کالجوں کی فہرست شائع کرتے ہوئے ان کا تکنیکی تجزیہ بھی پیش کر کے ان کا ایگزیکٹ سے مبینہ تعلق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس خبر پر ایگزیکٹ نے نیویارک ٹائمز اور ڈیکلن والش کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا تھا اور اپنی ویب سائٹ پر شائع بیان میں ان الزامات کو بے بنیاد، ہتک آمیز اور غیر معیاری قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں