’اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ پہلے تعمیر کیا جائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت چاہتی ہے کہ قومی معاملات پر اتفاق رائے اور افہام و تفہیم کے ذریعے آگے بڑھا جائے: نواز شریف

وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے ملکی سیاسی قیادت کو یقین دلایا ہے کہ حکومت چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے مغربی روٹ کو جو صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے گزرتا ہے، پہلے تعمیر کرے گی۔

عوامی نیشنل پارٹی اور صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بعض دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعتراض کیا جاتا ہے کہ حکومت نے مغربی کے بجائے پہلے مشرقی حصے پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو پنجاب سے گزرتا ہے۔

وزیراعظم نے جمعرات کو دیے جانے والے بیان کے ذریعے ان شکوک کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے اور واضح انداز میں اس مغربی گزرگاہ میں آنے والے علاقوں کے نام بھی گنوائے تاکہ اس بارے میں مزید شک کی گنجائش نہ رہے۔

پاکستان اور چین معاہدوں پر اٹھتے سوالات

’راہداری منصوبہ صرف ایک سڑک نہیں‘

اس منصوبے پر سیاسی رہنماؤں کے تحفظات دور کرنے کے لیے بلائی جانے والی کل جماعتی کانفرنس کے اختتام پر شرکا کی موجودگی میں ایک بیان پڑھتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے صوبائی نمائندوں پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ بنانے کا بھی اعلان کیا جو منصوبہ بندی کمیشن کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر عمل کا جائزہ لے گا۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں مختلف علاقوں اور صوبوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے جو اس منصوبے کی جزئیات پر نظر رکھے گی۔

اس اجلاس کے اختتام پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے پر سب فریق مل کر چلیں گے۔

’وزیراعظم نے واضح کر دیا ہے کہ اس راہداری کا روٹ تو مغربی (بلوچستان اور خیبر پختونخوا) والا ہی ہے۔ جہاں تک باقی منصوبوں، اقتصادی زون وغیرہ کا تعلق ہے تو ان پر پارلیمانی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو اس کا فیصلہ اتفاق رائے سے کرے گی۔‘

یاد رہے کہ اسفند یار ولی خان نے چند روز قبل ہی اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حکومت نے اس پر من مانی کرنے کی کوشش کو تو یہ منصوبہ ایک اور کالاباغ ڈیم بن جائے گا۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں نواز شریف نے سیاسی جماعتوں سے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے پر اتفاقِ رائے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو شفاف بنانا چاہتی ہے۔

انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں اس منصوبے پر اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے جاری کل جماعتی کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہم اس منصوبے کی تفصیلات کسی سے پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتے اسی لیے اس پر بحث کرنا چاہتے ہیں تاکہ جس کسی کو بھی اس پر کوئی تحفظات ہیں تو وہ سامنے آئیں اور ان کا جواب بھی دیا جائے تاکہ ہم اتفاق رائے سے اس منصوبے کو مکمل کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے میں خنجراب میں پاکستان اور چین کی سرحد سے لے کر بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ تک سڑکوں اور ریل کے رابطوں کی تعمیر کے علاوہ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے شامل ہیں

انھوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ قومی معاملات پر اتفاق رائے اور افہام و تفہیم کے ذریعے آگے بڑھا جائے۔

وزیرِ اعظم کے خطاب کے بعد اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سیاسی رہنماؤں کے تحفظات دور کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں پر مشتمل ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔

انھوں نے اپنی بریفنگ میں اس منصوبے کے بارے میں پائی جانے والی پانچ بدگمانیوں کی نشاندہی کی اور پھر ان تمام کی فرداً فرداً وضاحت بھی کی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت بننے والے ترقیاتی منصوبوں پر تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے سیاسی جماعتوں پر مشتمل ورکنگ گروپ بنا دیا جائے اور اس گروپ کی منظوری کے بعد ہی ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں کو حتمی شکل دی جائے۔

وفاقی وزیر نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ راہداری منصوبے کی گزر گاہ یا روٹس کے بارے میں اعتراضات کو دور کرنے کے لیے ان کے معائنے کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی کہ وہ اپنے نمائندے نامزد کریں جنھیں موقعے پر لے جا کر اس راہداری منصوبے کی گزرگاہ اور ان پر ہونے والے تعمیراتی کام دکھائے جا سکتے ہیں تاکہ یہ تاثر زائل کیا جا سکے کہ سب سے پہلے پنجاب والے روٹ پر کام ہو رہا ہے۔

خیال رہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر اسی نوعیت کا ایک اجلاس دو ہفتے قبل بھی ہوا تھا جس میں سابق صدر آصف زرداری سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

منصوبہ بندی کے وزیر نے اس کانفرنس کو بھی راہداری منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی تھی تاہم اس کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی اور تحریک انصاف کی جانب سے اس منصوبے میں بعض علاقوں کو نظر اندار کیے جانے کے بیانات سامنے آئے تھے۔

حکومت نے اسی تناظر میں یہ دوسری کانفرنس طلب کی جس میں آصف زرداری تو شریک نہیں ہیں لیکن ان کی جماعت سمیت تمام بڑی جماعتوں کے سینیئر رہنما موجود ہیں۔

اسی بارے میں