رانا ثناءاللہ دوبارہ وزیرقانون بن گئے

Image caption حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس لاہور میں ہوئی جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی شرکت کی

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان کی پنجاب کابینہ میں دوبارہ واپسی ہوگئی ہے اور سابق صوبائی وزیر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

گورنر پنجاب رفیق رجوانہ نے رانا ثناءاللہ خان سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔وہ وزیر قانون کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیں گے۔

رانا ثناءاللہ نے گذشتہ برس جون میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں پولیس فائرنگ سے عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکت پر استعفیٰ دے دیا تھا۔

رانا ثناءاللہ کی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کے علاوہ ممبر صوبائی اسمبلی عائشہ غوث پاشا کو صوبے کی وزیرِ داخلہ بنایا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک خاتون کو صوبائی وزیرِ خزانہ بنایا گیا ہے۔عائشہ غوث پاشا سابق وفاقی وزیرِ خزانہ حفیظ احمد پاشا کی اہلیہ ہیں۔

پنجاب کابینہ میں رانا ثناءاللہ کی دوبارہ شمولیت پر عوامی تحریک کے کارکنوں نے گورنر ہاؤس سے کچھ فاصلے پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

صوبائی وزیر کی حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس لاہور میں ہوئی جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی شرکت کی۔

عوامی تحریک کے کارکنوں نے سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔

چند روز قبل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ خان کو عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکت کے واقعے سے بے گناہ قرار دے دیا تھا اور اس کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد رنا ثناءاللہ خان کو دوبارہ پنجاب کابینہ میں شامل کر لیا گیا ہے۔

عوامی تحریک کے مرکزی سیکریٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے قائم جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ نے 30 مئی کو گواہوں کو طلب کیا ہے لیکن ایک دن قبل رانا ثناءاللہ سے دوبارہ حلف لے لیا گیا۔

پنجاب اسمبلی میں حزب مخالف کی بڑی جماعت تحریک انصاف نے بھی رانا ثناءاللہ خان کی صوبائی کابینہ میں دوبارہ شمولیت پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ پنجاب میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور قانون توڑنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں