’تنازعات میں صحافیوں کو فریق نہ سمجھیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان ان پانچ ممالک میں بھی شامل ہے جہاں صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے ایکشن پلان کے منصوبے پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔

پاکستان میں حقوق انسانی اور میڈیا کی آزادی کے لیے سرگرم تنظیموں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے دنیا میں ذرائع ابلاغ پر بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس میں ملوث افراد کو سزائیں دلوانے کے مطالبے پر مبنی قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے۔

دنیا میں سنہ 2006 سے سنہ 2013 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 600 صحافیوں کی ہلاکتوں میں سے 273 جنگ زدہ علاقوں میں ہوئی ہیں۔

پاکستان بھی دنیا کے ان کئی ممالک میں شامل ہے جہاں مسلح تنازعات جاری ہیں جن کے نتیجے میں گزشتہ 13 برسوں میں 100 سے زائد صحافی قتل کیے جا چکے ہیں اور ماسوائے ایک عاد کیس کے ان کے قاتل پکڑے نہیں جا سکے ہیں۔

پاکستان ان پانچ ممالک میں بھی شامل ہے جہاں صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے ایکشن پلان کے منصوبے پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔

لیتھوینا کی تیار کردہ قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایک آزاد اور غیر جانبدار میڈیا جمہوری معاشرے کی مضبوط بنیاد کا حصہ ہے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد میں کسی بھی تنازعے کے فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صحافیوں کو فریق نہ سمجھیں بلکہ انھیں ان کی آزادانہ سرگرمیوں کو یقینی بنانے میں مدد دیں۔

پاکستان میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال انتہائی سنگین ہے۔

تنازعات سے متاثرہ ممالک میں متاثرہ میڈیا کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ نامی بین الاقوامی تنظیم کے عدنان رحمت نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو لاحق خطرات کا بھی اقوام متحدہ نے نوٹس لیا ہے۔

’ 2013 میں انھوں نے یو این ایکشن پلان آن ایمپیونٹی اینڈ ایشوز آف سیفٹی کے نام سے منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ پاکستان میں اس منصوبے کوآئے ہوئے دو سال ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد 2014 صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک سال ثابت ہوا جب 14 صحافی قتل ہوئے۔‘

ان کا ماننا ہے کہ اس مسئلے پر اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور بات جو کی توں ہے۔

’سرکاری طور پر نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جس سے ذمہ داروں کے کردار کا تعین ہو سکے۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قرارداد توجہ دلانے کا اہم ذریعہ ہے۔‘

عدنان رحمت نے کہا کہ بطور رکنِ اقوام متحدہ پاکستانی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے پر کوئی پوزیشن اختیار کرے یا پھر شرکت داروں کے مشورے کے ساتھ ایسا نظام متعارف کرے جس سے اس تمام معاملے کا احاطہ اور سدے باب ہوسکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption قرارداد میں کسی بھی تنازعے کے فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صحافیوں کو فریق نہ سمجھیں

اقوام متحدہ کی قرارداد میں پہلی مرتبہ اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ صحافی قبل از وقت تنبیہ کے طور پر تنازعات سے بچنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

پیرس میں قائم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اس قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صحافیوں کے تحفظ اور میڈیا کی آزادی کے لیے ایک تاریخی کوشش قرار دیا ہے۔

آر ایس ایف کے پاکستان میں نمائندہ اقبال خٹک سے جب دریافت کیا گیا کہ حکومت صحافیوں کے تحفظ کے لیے زبانی جمع خرچ تو بہت کرتی ہے، عملی طور پر بھی اس کے کچھ کیا، تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے ایک کمیشن کے قیام کی بات تو کی ہے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہوا ہے۔

’اسی وجہ سے آر ایس ایف نے اقوام متحدہ کو تجویز دی ہے کہ وہ اپنا ایک خاص ایلچی مقرر کریں جو شدید متاثرہ ممالک میں عملی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے۔‘

اسی بارے میں