لوئر دیر میں خواتین ووٹ کے حق سے محروم کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دیر میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کا سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کا قدامت پسند سمجھے جانے والا ضلع لوئر دیر میں سنیچر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ابھی تک یہ واضح نہیں کہ خواتین کو ووٹ ڈال رہی ہیں یا نہیں۔

غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق ضلع کے کچھ مقامات سے اس طرح کی اطلاعات مل رہی ہیں جس کے تحت کچھ دور افتادہ علاقوں میں انتخابی امیدواروں نے خفیہ طورپر فیصلہ کیا ہے کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کےلیے نہیں نکالا جائے گا۔

ایک ایسے علاقے میں جہاں خواتین کو ان کا قانونی حق رائے دہی نہیں دیا جاتا ہو وہاں کئی خواتین امیدوار بھی عورتوں کی مخصوص نشستوں پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

ان میں تیمر گرہ کے قریب واقع تلاش گاؤں سے تعلق رکھنے والی نورین اطہر بھی شامل ہیں جو گاؤں کونسل کےلیے خواتین کی مخصوص نشست پر امیدوار ہیں۔

نورین اطہر کا کہنا ہے کہ ’میں خود تو امیدوار ہوں لیکن مجھے یقین نہیں کہ خواتین ووٹ ڈالنے کےلیے گھروں سے باہر نکلیں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ دیر میں خواتین کی رائے تو قبائلی جرگوں کی مرہون منت ہے، اگر جرگہ اجازت دے تو خواتین حق رائے دہی استعمال کرتی ہیں ورنہ گھر سے باہر ان کے قدم رکھنے کی جرات نہیں کرسکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ضلع میں سیاسی جماعتوں اور حکومت کی جانب سے خواتین کی انتخابی عمل میں حصہ لینے کو یقینی بنانے کےلیے کبھی سنجیدہ کوششیں دیکھنے میں نہیں آئی

نورین اطہر کے بقول ’ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں پیسے تقسم کرنے کا معاملہ ہو تو پھر یہی خواتین قطاروں میں گھنٹوں باہر کھڑی رہتی ہیں اور پھر نہ جرگہ ہوتا ہے نہ مقامی روایات آڑے آتی ہیں لیکن جب خواتین کی رائے کا معاملہ ہو تو پھر ان پر قدغن لگایا جاتا ہے۔‘

دیر میں اگر ایک طرف عورتوں کو ان کے قانونی حق سے محروم کیا جارہا ہے تو دوسری طرف حالیہ انتخابی عمل میں کچھ مثبت اشارے بھی مل رہے ہیں۔ ضلع بھر میں پہلی مرتبہ خواتین امیدواروں کی جانب سے پوسٹرز چھاپے گئے ہیں جو گلی کوچوں اور بازاروں میں لگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ بیشتر پوسٹرز خواتین امیدواروں کے اپنے ناموں سے نہیں ہے بلکہ ان شوہر یا والد کے ناموں سے بنائے گئے ہیں تاہم کچھ پوسٹرز خواتین امیدواروں کے اپنے ناموں سے بھی نظر آئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی دیر میں خواتین امیدواروں کی طرف سے پوسٹرز نہیں چھاپے گئے تھے۔

لوئیر دیر میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد پانچ لاکھ نوے ہزار ہے جس میں ساڑھے تین لاکھ مرد اور دو لاکھ چالیس ہزار خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

Image caption نورین اطہر کا کہنا ہے کہ ’میں خود تو امیدوار ہوں لیکن مجھے یقین نہیں کہ خواتین ووٹ ڈالنے کےلیے گھروں سے باہر نکلیں گی‘

ضلع میں سیاسی جماعتوں اور حکومت کی جانب سے خواتین کی انتخابی عمل میں حصہ لینے کو یقینی بنانے کےلیے کبھی سنجیدہ کوششیں دیکھنی میں نہیں آئی۔

ماضی میں ملک کی تمام بڑی بڑی سیاسی جماعتیں خواتین کو ووٹنگ کے عمل سے دور رکھنے کےلیے باقاعدہ معاہدے کرتے آئی ہے جو بدستور ریکارڈ کا حصہ ہے۔ یہ معاہدے حکومتی سرپرستی میں ہوتے رہے ہیں۔

دیر میں خواتین کے حقوق کے سلسلے میں کئی غیر سرکاری تنظیمییں سرگرم عمل ہیں ، لیکن یہ ادارے بھی بظاہر خواتین کو ووٹ کا حق دلوانے میں ناکام رہی ہے۔

ملاکنڈ ڈویژن میں سیاسی کارکنوں کی تربیت اور خواتین کے حقوق سے منسلک غیر سرکاری تنظیم اے بی کے ٹی کے منیجر شاد محمد کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں نہیں چاہتی کہ عورتوں کو ووٹ کا حق دیا جائے ورنہ ان کےلیے یہ کوئی اتنا بڑا مسلہ نہیں۔

ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو جب ضرورت ہوتی ہے تو پھر خاتون ووٹ بھی ڈالتی ہے اور کوئی مسئلہ نہیں ہوتا لیکن جب ضرروت نہیں ہوتی تو پھر روایات کا سہارا لیا جاتا ہے۔

Image caption لوئر دیر میں بیشتر پوسٹرز خواتین امیدواروں کے اپنے ناموں سے نہیں بلکہ ان شوہر یا والد کے ناموں سے بنائے گئے ہیں

تاہم دیر کی ضلعی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ اس مرتبہ خواتین کی ووٹ ڈالنے کی مخالفت کسی صورت برداشت نہیں کی جائےگی۔

دیر لوئیر کے ڈپٹی کمشنر سہیل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ۔ ان کے بقول الیکشن کے دوران ضلعی انتظامیہ ہر طرف نظر رکھی ہوئی ہے اور اگر کسی مسجد یا حجرے سے خواتین پر ووٹ کے ضمن میں قدغن لگانے کی کوشش کی گئی یا اس سلسلے میں کوئی جرگہ کیا گیا تو بلا امتیاز سختی قانونی چارہ جوئی کی جائے گی ۔

دیر میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کا سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سےکسی ایسے سیاسی رہنما، امیدوار یا مذہبی افراد کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی ہے جو خواتین کی ووٹ ڈالنے کی حق کی مخالفت کرتا رہا ہو۔ اس بات سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ حکومت یا ان کے ادارے دیر میں عورتوں کو ان کا حق دلالوانے میں کتنا سنجیدہ ہے۔

اسی بارے میں