کراچی میں کور کمانڈر کا غیر روایتی کردار

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN

پاکستان کےسب سے بڑے شہر کراچی میں کور کمانڈر کا غیر روایتی کردار سامنے آ رہا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار حکومت کی بدانتظامی پر کھلی تنقید کر رہے ہیں تو دوسری جانب وہ شہر کے اہم ’اسٹیک ہولڈروں‘ سے ملاقات کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔

وفاق میں مسلم لیگ نون کی حکومت کے بعد کراچی میں رینجرز کے آپریشن کا آغاز ہوا جس میں رینجرز کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل اور موجود ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر نے ایک متحرک کردار ادا کیا۔ جنرل رضوان اختر کو صنعت کاروں میں پذیرائی حاصل ہوئی لیکن وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی یہ شکایت بھی سامنے آئی کہ ڈی جی کے پاس ان کے لیے وقت نہیں ہے۔

فوج میں اعلیٰ سطح پر تبادلوں کے بعد کراچی میں بھی قیادت تبدیل ہوئی۔ اس دوران طالبان سے ناکام مذاکرات اور ہپر پشاور میں سکول پر حملے کے واقعات پیش آئے جس کے نتیجے میں دستورِ پاکستان میں اکیسویں ترمیم اور قومی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا اور عملدرآمد کےلیے صوبائی ایپکس کمیٹیوں کا قیام عمل میں آیا۔

جامعہ کراچی کے پاکستان سٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا ہے کہ انتظامی معاملات میں فوج کی شرکت گزشتہ سات آٹھ سال اور خاص طور پر جنرل مشرف کے دور سے نظر آتی ہے۔ کور کمانڈروں کے اجلاسوں جو بیان جاری ہوتا ہے، اس میں براہ راست سیاست پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔

’اکیسویں ترمیم اور پشاور سکول کے واقعے کے بعد یہ چیزیں زیادہ متحرک ہوئی ہیں، اب ایپکس کمیٹیوں میں عسکری اور سیاسی قیادت ساتھ بیٹھ کر امن و امان کی صورتحال پر بات کرتی ہیں جس سے فوج کا سیاسی کردار متحرک ہوا ہے ۔ اس سے سیاسی اور عسکری قیادت میں عدم توازن ہے وہ ماضی کے مقابلے میں نمایاں ہوکر سامنے آ رہا ہے۔‘

ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت نے وقتی طور پر ان تعلقات کو قبول بھی کرلیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے چند روز قبل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال غلطیوں اور ناکامیوں کے باعث خراب ہوئی جن میں انتظامی ناکامی اور ناکارہ سیاست شامل ہے۔

گزشتہ روز کور کمانڈر سے تاجروں کے ایک وفد نے بھی ملاقات کی۔ کور کمانڈر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ بھتہ خوری اور دیگر مسائل حل کیے جائیں گے۔

تجزیہ نگار پروفیسر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ کور کمانڈر نے جو مقالہ پیش کیا تھا اسے واضح ہوجاتا تھا ہے کہ وہ سندھ کی انتظامیہ پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے عسکری قوتوں کی بالادستی کا معاملہ ہے اور تاجروں سے جو ملاقات ہوئی ہے وہ اس تاثر کو تقویت دیتی ہے۔‘

لاہور، پشاور اور کوئٹہ کے برعکس صرف کراچی میں ہی کور کمانڈر کا متحرک کردار سامنے آ رہا ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی شہر کی صورتحال پر ان سے بریفنگ لیتے ہیں۔ اس سے پہلے اس نوعیت کے اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس میں نظر آتے تھے۔ اسی دوران متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر چھاپا پڑا اور تنظیم کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے فوجی قیادت پر الزام تراشی بھی ہوئی۔

سندھ کے سابق گورنر اور کور کمانڈر معین الدین حیدر کا کہنا ہے کہ یہاں کور کمانڈر کو ایک کام ملا ہوا ہے کہ’ کراچی میں امن امان ٹھیک کرو، ٹارگٹ کلرز کو مارو، اغوا کرنے والوں کو مارو، جو بینک لوٹ رہے ہیں انہیں پکڑو۔ وہ تو یہ صاف صاف کہہ رہے ہیں کہ ہم یہ کام کر رہے ہیں لیکن ساتھ میں دوسرے بھی کام کریں جو نہ کرنے کی وجہ سے پبلک میں بڑی بے چینی پھیل رہی ہے۔‘

’جب عوام بے چین ہوجائیں، انہیں پانی ملے نہ ، روزگار کے دروازے بند ہوں تو پھر وہ لوگ جرائم پیشہ افراد اور دشمن ملک کی ایجنسیوں کے ہاتھوں میں آسانی سے چڑھ جاتے ہیں اور یہ ہی بات سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت پر مخالف جماعتوں کی جانب سے بدانتظامی اور بدعنوانی کے الزامات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ یہ جماعتیں عمر رسیدہ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ تاہم وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ فوجی قیادت ان سے مطمئن ہے اور کور کمانڈر نے ان کے پاس آکر وضاحت کی تھی۔

تجزیہ نگار اور سینیئر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاست میں مداخلت کی بدقسمتی سے روایات رہی ہے، جس کی ایک وجہ فوج کی مداخلت ہے تو دوسری سیاستدانوں کی نااہلی بھی ہے، جس سے دوسروں کو شہہ ملتی ہے۔

موجودہ وقت پاکستان پارٹی کی صوبائی حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ موجودہ وزیراعلیٰ کو تبدیل کرے یا انتظامی تبدیلیاں لائے جس سے ایک طرف اچھی حکمرانی آئے تو دوسری طرف ادارے مضبوط ہوں۔ بدقمستی سے سویلین انتظامیہ خود ایسا ماحول فراہم کرتی ہے، جس سے دوسروں کی گنجائش بنتی ہے اور ان پر اعتماد بڑھ جاتا ہے۔

سابق گورنر اور وفاقی وزیر معین الدین حیدر کا کہنا ہے کہ عوام سے ووٹ لےکر کوئی مسئلہ حل نہ کرے، رشوت کا بازار گرم ہو تو ایسی جمہوریت کو کون پسند کرے گا‘۔

کور کمانڈر تو یہ کہہ رہے ہیں یہ جو بھتے والے اور ٹارگٹ کلرز بیس پچیس سال سے پیدا ہوگئے ہیں، انہیں سیاسی سرپرستی ہے، اس پر توجہ نہیں دی دی گئی وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس گند کو صاف کریں۔

سابق گورنر معین الدین نے کہا کہ کور کمانڈر کراچی یہ تو نہیں کہہ رہے کہ ’ہم ٹیک اور کررہے ہیں وہ تو انہیں ٹھیک کرنے کا کہہ رہے ہیں۔‘