کوئٹہ میں احتجاج، مستونگ میں ایف سی کا سرچ آپریشن

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سانحہ مستونگ کے سوگ میں سنیچر کو کوئٹہ شہر میں مکمل ہڑتال ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین نے کوئٹہ میں گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جبکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ مستونگ سرچ آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔

مستونگ میں 19 مسافروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا

اس سے قبل لواحقین سے مذاکرات کے لیے صوبائی وزیراطلاعات عبدالرحیم زیارت وال، بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما مولانا عبدالواسع اور عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجنیئیر زمرک خان گئے تھے تاہم مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ وہ وزیراعلیٰ بلوچستان یا کسی اعلیٰ حکومتی یا فوجی عہدیدار سے مذاکرات کریں گے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مظاہرین سے بات چیت کی اور انھیں یقین دلایا کہ مجرموں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

مظاہرین نے تشدد کے واقعے پر کل جماعتی کانفرنس طلب کیے جانے، متاثرین کو معاوضہ دینے اور مجرمان کی فوری گرفتاری سمیت تمام مطالبات تسلیم کیے جانے پر احتجاجی دھرنا ختم کر دیا۔

سانحہ مستونگ کے سوگ میں سنیچر کو کوئٹہ شہر میں مکمل ہڑتال کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کے جائے

دوسری جانب ایف سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مستونگ میں نامعلوم افراد کی جانب سے مسافروں کو نشانہ بنانے کے واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

ترجمان کے مطابق سرچ آپریشن میں دو مسلح افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

رات سے جاری اس آپریشن میں 200 سے زائد ایف سی اہلکار حصہ لے رہے ہیں اور انھیں ہیلی کاپٹرز کی مدد بھی حاصل ہے۔

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے سنیچر کو پریس کانفرنس سے خطاب میں صحافیوں کو بتایاکہ اس آپریشن میں اب تک سات دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں۔ صوبائی وزیرداخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے خلاف ایک سازش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والے زیادہ افراد کا تعلق بلوچستان کے ضلع پشین سے ہے

اس سے قبل وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے خبر رساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ مسلح افراد نے سکیورٹی افواج کی یونیفارم پہنی ہوئی تھیں۔

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مستونگ واقعہ کے خلاف تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب نامعلوم مسلح افراد نے ضلع کے علاقے کھڈ کوچہ میں دو مسافر بسوں کو روکا اور دونوں مسافر بسوں سے مجموعی طور پر 25 مسافروں کو اتارا گیا۔ اغوا کیے جانے والے پانچ مسافروں کو چھوڑ دیا گیا جبکہ باقی کو گولیاں ماردی گئیں۔

ہلاک ہونے والے زیادہ افراد کا تعلق بلوچستان کے ضلع پشین سے ہے۔

اسی بارے میں