مستونگ میں ہلاکتوں کے خلاف احتجاج اور شڑ ڈاؤن ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی رہی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ہلاک ہونے والے 21 مسافروں کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں جبکہ کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔

شمعیں روشن کرنے کی تقریب بلوچستان اسمبلی کی سبزہ زار پر منعقد ہوئی۔

اس تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ، صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کے علاوہ صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی، سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے بچوں کو آزادی اور مذہب کے نام پر ورغلایا گیا۔

21 مسافروں کے قتل کے واقعہ کے خلاف کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ اتوار کو دوسرے روز بھی جاری رہا۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی رہی۔

Image caption اس تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے بھی شرکت کی

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت مستونگ کے واقعے کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس واقعہ نے بلوچستان اور ملک بھر کے عوام کو ہلا کر رکھ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے اپنا طریقۂ واردات بدل دیا ہے اب حکومت بھی سکیورٹی سے متعلق معاملات کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے۔

کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ نے کہا کہ صوبے میں نہ صرف سیاسی استحکام آیا ہے بلکہ دہشت گردوں کے خلاف عوام کے شعور میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج عوام سیاسی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پشت پر کھڑی ہے۔

اسی بارے میں