دتہ خیل میں زمینی کارروائی کا آغاز’ 12 شدت پسند ہلاک ‘

Image caption فوج کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں ایجنسی کے90 فیصد علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز کی زمینی کارروائی میں 12 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

وزیرستان اور خیبر میں فضائی حملے

معاہدہ یا قبائلیوں کو گھیرنے کی کوشش

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اتوار کی شب شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے دتہ خیل سے دس کلومٹیر دور ایک علاقے میں زمینی کارروائی کی جس میں12 شدت پسند مارے گئے۔

بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کو گھیرے میں لیا ہوا تھا۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فرار ہونے والے شدت پسندوں نے ہلاک ہونے والے چند ساتھیوں کی لاشیں ادھر ہی چھوڑ دی ہیں۔

شمالی وزیرستان میں فوج کی طرف سے دتہ خیل اور آس پاس کے علاقوں میں پہلی مرتبہ ایسی کسی زمینی کارروائی کی اطلاع دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سکیورٹی ذرائع کی طرف سے کہا گیا تھا کہ پاک افغان سرحدی علاقوں دتہ خیل اور شوال میں عنقریب حتمی کارروائیوں کا آغاز کردیا جائے گا۔

شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال فوج کی طرف سے عسکری تنظیموں کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن ضرب عضب کو ایک سال پورا ہونے والا ہے۔

فوج کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں ایجنسی کے90 فیصد علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں جو بدستور پناہ گزین کیمپوں یا اپنے طور پر کرائے کے مکانات میں مقیم ہیں۔

حکام نے چند ہفتے قبل شمالی وزیرستان کی متاثرین کی واپسی کا عمل شروع کیا تھا اور اب تک کوئی 1200 کے قریب خاندان اپنے اپنے علاقوں کو واپس جا چکے ہیں تاہم میرعلی اور میرانشاہ تحصیلوں کے متاثرین کی واپسی کا عمل ابھی تک شروع نہیں کیا گیا ہے۔ متاثرین کی جانب ان کو اپنے گھروں کو واپسی میں تاخیر پر احتجاج بھی کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں