’جاسوس کبوتر‘ پر پاکستانیوں کا ردِعمل

بھارت میں پاکستان سے آنے والے کبوتر اور اس کو جاسوسی کے شبے میں حراست میں لیے جانے کی خبر کو دونوں ممالک میں تفریح کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور پاکستانیوں کو اپنے پڑوسی ملک کا مذاق اڑانے کا موقع مل گیا۔

اس سب معاملے کا آغاز تب ہوا جب پاکستان کی سرحد کے قریب چھوٹے سے بھارتی گاؤں میں 14 سالہ لڑکے کو سفید کبوتر ملا جس کے پروں پر اردو میں ایک پیغام کے ساتھ کچھ ہندسے لکھے ہوئے تھے۔

جس کے بعد اس پرندے کو پولیس کے پاس لے جایا گیا جنھوں نے اس کبوتر کا ایکس رے کرانے کا حکم دیا۔

کبوتر سے کوئی مشتبہ چیز تو نہیں ملی لیکن اطلاعات کے مطابق پولیس کے رجسٹر میں اس کبوتر کو ’مشتبہ جاسوس‘ کے نام سے درج کر دیا گیا ہے۔

مقامی پولیس اہلکار راکیش کوشل نے بھارتی اخبار دی ٹائمز آف انڈیا کو بتایا ہے کہ ’ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی پاکستانی پرندہ یہاں دیکھا گیا ہے۔ ہم نے یہاں چند جاسوس پکڑے ہیں، یہ علاقہ جموں سے بہت قریب ہے جہاں سے خفیہ طور پرداخل ہونا عام ہے۔‘

بھارت اور پاکستان ایک دوسرے پر جاسوسی کے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ رواں ہفتے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف پاکستان میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں جس کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا اشارہ بھارت کی جانب ہے۔

تاہم سرکاری سطح پر ایک پرندے کو حراست میں لینے کو سرحد کی دونوں جانب طنز و مزاح کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں بھارتی حکام کا مذاق اڑانے کے لیے کئی تصاویر بنائی گئی ہیں جن میں ایک معصوم کبوتر کو جدید دور کا جاسوس دکھایا گیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’پیجن ورسز انڈیا‘ اور ’ اف آئی ور اے پیجن‘ ہزاروں بار استعمال کیے گئے ہیں۔

دونوں ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر دو سوشل میڈیا ٹیموں کی جانب سے پھیلائے جا رہے ہیں، جو خود کو پاکستانی سیاسی جماعت تحریکِ انصاف کے نام سے ظاہر کر رہے ہیں۔

کسی پرندے کو جاسوسی کے شبے میں حراست میں لینے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

دی انڈین ایکسپریس اخبار کے مطابق سنہ 2010 میں بھی ایک کبوتر کو پاکستانی جاسوس ہونے کے شبے میں پکڑا گیا تھا جسے بعد میں تحقیقات کرنے کے بعد محکمۂ تحفظِ جنگلی حیات کے حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں