’امریکہ کے ساتھ تعلقات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لڑائی اُس وقت جاری رہے گی جب تک آخری دہشت گرد بھی ختم نہ ہو جائے: ممنون حسین

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات اعتماد اور احترام کی بنیاد پر قائم ہیں۔

اسلام آباد میں صدر ممنون حسین نے جمعرات کو تیسرے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔

صدر ممنون حسین نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ’دنیا میں امن اور استحکام کے لیے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔‘

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے موقعے پر وزیراعظم نواز شریف، سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی اور مسلح افواج کے سربراہان موجود تھے۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے گورنر بھی شریک تھے۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ’باہمی اعتماد اور تعاون‘ کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے اور دونوں ملک مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہی مسائل حل کر سکتے ہیں۔

صدر نے پارلیمان سے خطاب میں اقتصادی راہداری منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے تمام خطے کو فائدہ ہو گا اور چین کے تعاون سے مکمل ہونے والے اس منصوبے سے خطے کی تقدیر بدل جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ چین کی سرمایہ کاری سے اقتصادی ترقی کی شرح تیز ہو گی۔

صدر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیانہ دیرینہ تعلقات ہیں اور دونوں ملکوں نے مشکل اوقات میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔

صدر ممنون نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لڑائی اُس وقت جاری رہے گی جب تک آخری دہشت گرد بھی ختم نہ ہو جائے۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث ملک میں انسدادِ پولیو کی مہم موثر انداز میں نہیں چل سکی۔

انھوں نے کہا کہ پولیو کی وجہ سے پاکستان پر سفری پابندیاں افسوس ناک ہیں۔ ’پابندی عائد کرتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے تھا کہ پولیو کے پھیلاؤ کے ذمہ دار ہم نہیں بلکہ وہ عناصر ہیں جن کی وجہ سے خطے میں بدامنی اور دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔‘

صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ گذشتہ دو پارلیمانی سالوں میں دونوں ایوانوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ معیشت میں ترقی ہو رہی ہے اور ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

صدر نے کہا کہ پاکستان میں پانی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے اور اس پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر ڈیم بنانا ہوں گے۔

واضح رہے کہ آئین کی شق 56 کے تحت ہر پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس خطاب کرتا ہے۔

اسی بارے میں